مسلم لیگ ن میں بیانیے کا اختلاف: کون کہاں کھڑا ہے؟

مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف کی طرف سے اداروں کے ساتھ مفاہمت کی خواہش اور پارٹی کی نائب صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی طرف سے مزاحمت کی حمایت کے بعد پارٹی سیاسی حکمت عملی اور بیانیے کے حوالے سے دو واضح گروپوں میں تقسیم نظر آتی ہے۔
گو کہ پارٹی کی حکمت عملی کا حتمی فیصلہ لندن میں موجود مسلم لیگ نواز کے بانی میاں نواز شریف ہی کریں گے مگر دونوں گروپوں کی طرف سے کھل کر اظہار خیال کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف پر دباؤ میں اضافہ ہو گیا ہے کہ وہ پارٹی کے لیے کسی ایک رخ کو متعین کر دیں تاکہ یکسو ہو کر انتخابات سے قبل پارٹی اپنا لائحہ عمل بنا سکے۔
مزید پڑھیں
ایک طرف شہباز شریف نے اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں پیپلز پارٹی اور اے این پی کی واپسی کی کوششیں کی تو دوسری طرف مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی نے کھل کر اس کی مخالفت کرکے بالآخر اپنی بات منوا لی اور پی ڈی ایم اجلاس میں دونوں جماعتوں کو دعوت نہیں دی گئی، جبکہ ان جماعتوں کے رہنماوں سمیت اپوزیشن ارکان کو دیے گئے شہباز شریف کے عشائیے میں مریم نواز نے اسلام آباد میں موجودگی کے باجود شرکت نہیں کی۔
اس حوالے سے مقامی میڈیا میں متعدد دعوے سامنے آ رہے ہیں جن کے مطابق زیادہ تر ارکان اسمبلی شہباز شریف کے موقف کے حامی ہیں اور وہ اگلے الیکشن سے قبل اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کی بحالی چاہتے ہیں تاکہ انتخابات میں کامیابی کے بعد مسلم لیگ نواز کے حکومت بنانے کا راستہ آسان ہو سکے۔ اردو نیوز نے ان بیانات کو اکھٹا کرنے کی کوشش کی ہے جو اب تک عوامی سطح پر دونوں نکتہ ہائے نظر کے حوالے سے مرکزی رہنماؤں نے دیے ہیں۔

محاز آرائی نہیں ہمارا راستہ مشاورت ہے : شہباز شریف

حال ہی میں نیب کی قید سے رہا ہونے والے پارٹی صدر شہباز شریف نے اپنے پہلے ٹی وی انٹرویو میں کھل کر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کے حق میں اور محاز آرائی کے خلاف دلائل دیے۔
دنیا نیوز پر کامران خان کو انٹرویو دیتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ’گھر کے اندر بھی برتن آپس میں ٹکرا جاتے ہیں۔ کیا ہم ماضی کے قیدی رہیں۔ کنفرنٹیشن ہمارا راستہ نہیں ہم یہ چاہتے ہیں ہمارا راستہ مشاورت ہو۔ اس کے بغیر یہ ملک آگے نہیں چل سکتا۔ باہمی مشاورت کے ساتھ، آئین کی حکمرانی اور تمام ادارے اپنے دائرے میں رہ کر آگے بڑھیں۔‘
’جب میں جاؤں گا لندن علاج کے لیے تو میں ان کے ساتھ مشاورت کروں گا۔ وہ میرے بڑے بھائی، قائد اور والد کی جگہ ہیں۔ اور وہ راضی ہوں گے بشرطیکہ لیول پلیئنگ فیلڈ ہو‘۔
شہبازشریف نے کہا کہ ’قومی مفاد کے لیے اگر نواز شریف کے پاؤں بھی پکڑنا پڑیں تو میں یہ کروں گا کیونکہ یہ قومی مفاد کا معاملہ ہے۔‘

مزاحمت ہو گی تو مفاہمت ہو گی: مریم نوازشریف

شہباز شریف کے انٹرویو کے بعد سب کو انتظار تھا سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی ہونے کے ناطے پارٹی کی پاکستان میں دوسری اہم ترین رہنما مریم نواز شریف کے موقف کا۔ سوال یہ تھا کہ کیا وہ بھی مفاہمت کی سیاست کی قائل ہو گئی ہیں؟
تاہم اسلام آباد میں پی ڈی ایم اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے واضح کیا کہ ’اگر مزاحمت ہو گی تو ہی مفاہمت ہو گی۔ طاقت کبھی کمزوری سے بات نہیں کرتی۔ جہاں کمزوری دکھائی دشمن حملہ آور ہوگا۔‘
 مریم نواز کا کہنا تھا کہ کہ کوئی بھی چیز ٹرے میں رکھ کر نہیں ملتی۔ آپ کو اپنا حق لڑ کر اور چھین کر لینا پڑتا ہے۔

آئین توڑنے والوں سے مفاہمت نہیں ہو سکتی: شاہد خاقان عباسی

پارٹی میں مریم نواز کے قریب سمجھے جانے والے سابق وزیراعظم اور سینیئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے کھل کر شہباز شریف کے موقف سے اختلاف کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’مفاہمت اس سے نہیں ہوتی جو الیکشن چوری کرے اور آئین توڑے۔ مفاہمت کبھی یکطرفہ بھی نہیں ہوتی۔‘
’ہر ادارے کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔ چاہتے ہیں کہ اداروں کی عزت رہے اور وہ آئین کے مطابق اپنی حدود میں رہیں۔ چاہتے ہیں کہ ملک کا نظام آئین کے مطابق چلے۔‘
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ شہبازشریف پرانے سیاستدان ہیں۔ آئین کو توڑنا قبول نہیں کرسکتے اس بیانیے میں کوئی اختلاف نہیں۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ شہبازشریف کی طرف سے نواز شریف کے پاؤں پکڑنے کی بات سے اختلاف کروں گا ۔’نوازشریف کے پاوَں پکڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ ان کے سگے بھائی ہیں ہم بھی بھائیوں کی طرح ہیں 32 سال میں بھائی بن جاتا ہے میں نے کبھی پاؤں پکڑنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اگر دلائل ہوں تو نوازشریف بات سننے والے آدمی ہیں۔‘

شہباز شریف نیب کی طویل قید سے رہائی کے بعد دیے گئے انٹرویو میں مفاہمت کو مفید قرار دے چکے ہیں (فوٹو: ویڈیو گریب)

اب جو بات ہوگی عوام کے سامنے ہوگی: رانا ثنااللہ

پارٹی کے سینیئر رہنما رانا ثنا اللہ نے جیو کے پروگرام نیا پاکستان میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میاں نواز شریف نے فیصلہ کیا تھا اگر کوئی معاملہ ہوا تو عوام کے سامنے (فوج کے ساتھ) بات ہوگی۔ اگر میاں شہباز شریف کے ساتھ معاملہ ہوا تو عوام کے سامنے ہوگا۔ ان اہداف کے حصول کے لیے بات چیت عوام کے سامنے ہوگی۔‘

نواز شریف حتمی فیصلہ کریں: رانا تنویر

مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما رانا تنویر نے واضح الفاظ میں کہا کہ ’نواز شریف کو مفاہمت کی سیاست کرنی ہے یا مزاحمت کی انہیں اس سے متعلق حتمی فیصلہ کر لینا چاہیے۔‘
ہم نیوز کے  پروگرام ’ہم مہر بخاری کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہباز شریف پارٹی کے صدر اور اپوزیشن لیڈر ہیں لیکن ن لیگ کے فیصلے نواز شریف کرتے ہیں۔ ان فیصلوں کو شہباز شریف کو بھی ماننا ہوتا ہے۔