’مسلم لیگ ن نے اوورسیز کے ووٹ کے حق کو حقارت سے مسترد کیا‘

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ’مسلم لیگ ن کی قیادت نے اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کے حق کو حقارت سے مسترد کیا۔‘
اتوار کو کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’احسن اقبال کہتے ہیں کہ بیرون ملک پاکستانیوں کو پاکستان کے مسائل کا ادراک نہیں، ہم ان کو ووٹ کا حق نہیں دینا چاہتے۔ میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ نوازشریف اور ان کے دوسرے لیڈر حسن نواز شریف، حسین نواز شریف اور اسحاق ڈار کیا ہیں؟ وہ بھی تو اوورسیز پاکستانی ہیں۔‘ ​
وفاقی وزیر نے کہا کہ ’ فرق یہ ہے کہ جو اوورسیز پاکستانی مزدوری کر رہے ہیں وہ اپنا پیسہ کما کر پاکستان بھیج رہے ہیں اور لٹیروں کا یہ گروہ جس کو ہم ن لیگ کہتے ہیں وہ پاکستان کا پیسہ چوری کر کے باہر لے گئے۔‘
مزید پڑھیں
انہوں نے مزید کہا کہ ’اوورسیز پاکستانیوں کی محبت کا اندازہ یہاں سے لگائیں کہ 29 ارب ڈالر کی تاریخ کی سب سے بڑی ترسیلات زر پاکستان کو ملی ہیں، جو پیسہ پاکستان بھیجا ہے ان میں سے 90 فیصد وہ ہے جو  پانچ سو ڈالر سے کم رقم ہے۔ یہ لیبر کی طرف سے پاکستان کو بھیجی گئی رقم ہے یہ کسی ایک بندے نے اربوں روپے نہیں بھیج دیے۔‘ 
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نے ایک روایت اپنالی ہے کہ بغیر کچھ پڑھے ہر چیز مسترد کرنی ہے۔
’ہم نے الیکٹورل ریفارمز میں 49 ترامیم پیش کی ہیں، انہوں نے الیکٹرانک مشینں دیکھی تک نہیں اور اسے مسترد کر دیا۔‘ 
وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ ایک ایسا انتخاب ہو جس میں ہارنے اور جیتنے والے اس کو قبول کریں اور بغیر سوال کے قبول کریں، اگر آپ 49 ترامیم کو قبول نہیں کرتے تو اپنی ترامیم لے آئیں اور کہیں کہ اس طرح الیکشن ہونے چاہیں۔ 
انہوں نے کہا کہ ’مسلم لیگ ن کا اگلے الیکشن میں بھی کوئی مستقبل نہیں، لہذا وہ ابھی سے اس طرح کی فضا رکھنا چاہتے ہیں کہ اگلے الیکشن میں دھاندلی ہوگی۔ ایسی باتیں وہی لوگ کرتے ہیں جن کو علم ہو کہ اگلے الیکشن میں ان کو کچھ نہیں ملنا۔‘ 

احسن اقبال نے کہا تھا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان کے حالات کا علم نہیں لہٰذا وہ ووٹ کاسٹ نہیں کر سکتے۔ (فوٹو: اے پی پی)
سپریم کورٹ آرٹیکل 140 اے پر عملدرآمد کروائے‘
وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’سندھ میں آرٹیکل 140 اے کو لگانا چاہیے۔ آج سندھ کے اندر 140 اے لگانے کی ضرورت ہے جس کے تحت طاقتور مقامی حکومتیں بنیں ورنہ اضلاع اور شہروں کو فنڈز نہیں ملیں گے، بلکہ من پسند ٹھیکے داروں کو ملیں گے۔  سندھ میں کہا جاتا ہے کہ گورنر راج لگایا جا رہا ہے، لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ آئین میں گورنر راج کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ آئین پر عملدرآمد کروائیں۔ 
انہوں نے کہا کہ سندھ کو تین سالوں میں 16 سو سے 18 سو ارب روپے وفاق نے دیے لیکن یہ رقم کہاں لگی اس کا کچھ پتا نہیں ہے،
’ہر پانچ سال بعد ایک آدمی صرف ایک ربڑ سٹیمپ کے طور پر وزیراعلی ہاؤس میں بٹھا دیا جاتا ہے اور اس کی تاریں زرداری فیملی کے پاس ہوتی ہیں۔ زرداری فیملی وزیراعلیٰ کو کٹھ پتلی کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ عوام کا پیسہ دبئی اور لندن جا رہا ہے۔‘ 

فواد چوہدری نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں آرٹیکل 140 اے کو لگانا چاہیے۔ (فوٹو: اے یف پی)
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’نیب کی تاریخ میں سب سے زیادہ پلی بارگین کے تحت ریکوری سندھ کے کیسز سے ہوئی ہے۔ اربوں روپے کی ریکوری سندھ کے کیسز سے ہوئی ہے۔ ہم وفاق کا پیسہ براہ راست عوام پر لگائیں گے سندھ حکومت کو نہیں دیں گے۔ 
سندھ کے پانی چوری کے الزام پر جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ’سندھ کا پانی بلاول ہاؤس اور سندھ کابینہ میں موجود وڈیرے چوری کر رہے ہیں۔ آصف زرداری اور ان کی بہن کی زمینوں پر تو پانی کم نہیں ہوا۔‘