مصنفہ اسما نبیل کینسر سے جنگ ہار گئیں، ’آج ایک بات ہوں کل یاد بن جاؤں گی‘

جمعہ 2 جولائی 2021 11:43

اسما نبیل کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں۔ فیس بک اسما نبیل

’خانی‘، ’باندی‘، ’خدا میرا بھی ہے‘، ’دمسہ‘ اور ’سرخ چاندنی‘ جیسے کامیاب ٹی وی ڈراموں کی مصنفہ نامور پاکستانی ڈرامہ نگار، پروڈیوسر اور شاعرہ اسما نبیل کم عمری میں کینسر سے جنگ ہار گئیں۔
اسما نبیل کراچی میں رہائش پذیر تھیں اور کینسر کے مرض میں مبتلا ہونے کے باعث طویل عرصے سے علیل تھیں۔
جمعرات کی رات کو اچانک ان کی موت کی خبر آنے کے بعد شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی مختلف شخصیات نے سوشل میڈیا پر غم و افسوس کا اظہار کیا۔
مصنفہ اسما نبیل کے فیس بک اکاؤنٹ سے ان کے انتقال کی خبر شیئر کی گئی جس میں لکھا تھا کہ ’بہت بھاری دل سے مجھے یہ خبر دینی پڑ رہی ہے کہ میری بھابھی اسما نبیل اب ہم میں نہیں رہیں۔‘
پوسٹ کے مطابق ان کی نماز جنازہ آج جمعے کے روز کلفٹن کراچی میں ادا کی جائے گی۔
اداکار اعجاز اسلم نے ٹویٹ میں اسما نبیل کی وفات پر افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بہت دکھ کی بات ہے کہ اب وہ ہمارے ساتھ نہیں رہیں۔ اسما نبیل آپ یہ دنیا بہت جلد چھوڑ کر چلی گئیں، بہادر عورت تھیں۔‘
فیشن ڈیزائنر علی ذیشان نے ٹویٹ کیا کہ ’اسما نبیل کی موت کی خبر سن کر دل ٹوٹ گیا، وہ حقیقت میں ایک سپر ہیرو تھیں جنہوں نے بریسٹ کینسر کے خلاف جنگ لڑی اور خود کو ہارنے نہیں دیا، آپ یاد آؤ گی۔‘
صحافی باسط سبحانی نے اسما نبیل کا ایک شعر ٹویٹ کیا جس کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ اپنی وفات سے کچھ عرصہ پہلے اسما نبیل نے یہ الفاظ لکھے تھے: آج ایک بات ہوں، کل یاد بن جاؤں گی، پر یاد بنوں کچھ ایسی جس میں کچھ بات ہو! 
اسما نبیل نے بریسٹ کینسر کی تشخیص کے بعد ڈرامے لکھنا شروع کیے تھے۔ اسی دوران انہیں کیموتھراپی کے کئی سیشنز سے بھی گزرنا پڑا۔
انہوں نے کئی مشہور ڈراموں کے سکرپٹ لکھے جن میں خانی، باندی، خدا میرا بھی ہے، دمسہ اور سرخ چاندنی شامل ہیں۔
سال 2018 میں انہوں نے احسن رضا فردوسی کے ساتھ ہٹ فلم ’مان جا نہ‘ کا سکرپٹ لکھا تھا۔ اسما نبیل اپنے سکرپٹ کے ذریعے معاشرتی مسائل کو اجاگر کرتی تھیں۔
2019 میں اسما نے بچوں کے اغوا کے مسئلے سے متعلق سلسلے ڈرامہ ’دمسا‘ لکھا، اس کے علاوہ ’سرخ چاندنی‘ میں تیزاب کے حملوں کے ایک سماجی موضوع کو بھی اجاگر کیا۔
اسما نبیل کو 2015 میں ’پونڈ میریکل وومن‘ کا ایوارڈ دیا گیا جبکہ 2019 میں بہترین لکھاری کے لیے لکس سٹائل ایوارڈ اور ہم ایوارڈز کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔