معاوضے کی ادائیگی، فیس بک کا آسٹریلوی پبلشر کے ساتھ بات چیت سے انکار

آسٹریلیا کا نگران ادارہ اس دعوے کی جانچ کر رہا ہے جس کے مطابق فیس بک نے ایک پبلشر (ویب سائٹ) کی اپنے مواد کو استعمال کرنے سے متعلق معاہدے پر بات چیت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انٹرنیٹ پر خبریں شائع کرنے والی ویب سائٹ دا کنورزیشن کا کہنا ہے کہ اس نے فیس بک کو آسٹریلیا کے نئے قانون کے تحت بات چیت کا آغاز کرنے کا کہا تھا۔
مزید پڑھیں
یاد رہے کہ آسٹریلیا نے ایک قانون متعارف کروایا ہے جس کے تحت گوگل، فیس بک اور دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں کو میڈیا اداروں کو ان کے نیوز مواد کے لیے ادائیگی کرنا ہوگی۔
دا کنورزیشن کا کہنا ہے کہ فیس بک نے کوئی وجہ بتائے بغیر ہی بات کرنے سے انکار کر دیا۔ مواد شائع کرنے کی یہ ویب سائٹ آسٹریلیا کے ان پہلے پبلشرز میں سے ایک ہے جنہوں نے گوگل کے ساتھ ڈیل کی۔
روئٹرز کے سوالات کے جواب میں فیس بک کے آسٹریلیا کے ساتھ خبروں کی پارٹنرشپ کی نگرانی کرنے والے ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ اینڈریو ہنٹر نے بتایا کہ کمپنی آسٹریلیا کے پبلشرز کی بڑی تعداد کے ساتھ کمرشل بنیادوں پر معاہدوں کے حوالے سے کسی نتیجے پر پہنچنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔‘
ہنٹر نے دا کنورزیشن کے حوالے سے کسی سوال کا جواب نہیں دیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ فیس بک آئندہ کچھ مہینوں میں آسٹریلیا کے علاقائی، دیہی اور ڈیجیٹل نیوزرومز اور مفاد عامہ پر مبنی صحافت کے تعاون کے لیے ایک علیحدہ اقدام کا ارادہ رکھنا ہے۔

قانون کے تحت گوگل، فیس بک اور  دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں کو میڈیا اداروں کو ان کے نیوز مواد کے لیے ادائیگی کرنا ہوگی (فوٹو: روئٹرز)
آسٹریلین کمپیٹیشن اینڈ کنزیومر کمیشن (اے سی سی سی) کے چیئرپرسن روڈ سمز کا کہنا ہے کہ ’اگر گوگل ان کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے تو فیس بک کیسے اس ڈیل کو نہ کرنے پر بحث کر سکتا ہے۔
آسٹریلوی حکومت نے اس قانون کو متعارف کرانے کی وجہ یہ بتائی تھی کہ ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز خبریں پڑھنے کے خواہشمند لوگوں سے منافع کماتے ہیں اس لیے انھیں پبلشرز کو امعاوضہ دینا چاہیے۔
آسٹریلیا میں پراپرٹی کی معلومات سے متعلق جریدے کے پبلشر نیلسن ییپ نے بتایا کہ ان کی گوگل کے ساتھ بات چیت جاری تھی، انہوں نے فیس بک کو دو مرتبہ ای میل بھیجی لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ فیس بک کے پبلشرز سے بات چیت سے متعلق بیانات پڑھتے ہیں لیکن وہ نہیں جانتے کہ ’کس کے ساتھ بات چیت ہو رہی ہے، ہمارے ساتھ تو نہیں۔‘