معیشت کو دلدل میں پھنسانے والےماضی کی باتوں سے منع کرتےہیں،عمرایوب

اپوزیشن اعداد و شمار کو غلط پیش کرتی ہے۔

عمر ایوب خان کہا ہے کہ ملک کی معیشت کو دلدل میں پھنسانے والے کہتے ہیں کہ ماضی کی باتیں نہ کریں۔

پیر کو قومی اسمبلی اجلاس میں خطاب کرتےہوئے پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی عمر ایوب خان نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے 99 ناموں کے نیچے سچ بولنا چاہیے۔ المیہ ہے کہ شہبازشریف اور بلاول بھٹو اقتدار میں رہے لیکن درست حقائق بیان نہیں کئے،اس لئے ان کوعوام نے انتخابات میں شکست دی۔

انھوں نے کہا کہ ہم ماضی اس لیئے یاد دلاتے ہیں کیوں کہ اپوزیشن اعداد و شمار کو غلط پیش کرتی ہے۔ سال 2018 کے انتخابات سے 7 ماہ پہلے معیشت آکسیجن پر تھی اور ملک کا دیوالیہ نکل چکا تھا۔ نون لیگ کی حکومت کے دوران منصوبہ بندی کمیشن کی رپورٹ تھی کہ پیپلز پارٹی نے درست منصوبہ بندی نہیں کی۔ سی پیک کے باوجود نون لیگ کے دورِاقتدار میں سرمایہ کاری نہیں ہوئی۔ نون لیگ نے لوگوں کو نہ پانی دیا اورنہ سڑکیں دیں البتہ نون لیگ تحریک انصاف کے لیے بارودی سرنگیں بچھا کر گئی ہے۔

عمر ایوب کا کہنا تھا کہ نون لیگ حکومت نے 4 ہزار میگاواٹ رینیوایبل انرجی منصوبوں کو ختم کیا اور تحریک انصاف کی حکومت نے آتے ہی یہ پروجیکٹ بحال کئے۔عمران خان کی حکومت نے سولر انرجی کا یونٹ ساڑھے 6 روپے مقرر کیا اور کھانچے سسٹم سے ختم کردیئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ  نون لیگ کی حکومت آئی تو کیپسٹی پیمنٹ 185 ارب سے بڑھ کر 468 ارب روپے تک پہنچ گئی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نون لیگ نے مارکیٹ ریفارمزنہیں کیں تاہم اب موجودہ حکومت نے عوام کی بہتری کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نےبجلی کیلئے تجدیدی پالیسی بنائی۔ اس سے قبل 2017 میں نون لیگ نے ایل این جی کے مہنگےترین معاہدے کیے تھے اور ان کی خلاف ورزی پر جرمانے عوام کی جیبوں سے نکالے گئے۔

حکومتی پالیسی پر ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی آئی حکومت نے قطر کیساتھ 10 اعشاریہ 2 پر ایل این جی کا معاہدہ کیا اور مسلم لیگ نون کے دور میں ایل این جی کے 2 ٹرمنل اڑھائی ارب روپے کا یومیہ ٹیکا لگایا۔ عمران خان نے قطر حکومت سے بات کر کے 507 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا۔ اسد عمر نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ حکومت نے ایل این جی کو پیٹرولیم مصنوعات قرار دے دیا جس کے باعث سرکلرڈیٹ میں اضافہ ہوا۔ 60 لاکھ گھرانوں کیلئے حکومت بغیر سود کے قرضہ دے گی۔3 لاکھ لوگوں کیلئے بنا سود کے قرضوں کے لیے 33 ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں۔عمران خان کے منصوبوں کی وجہ سے اپوزیشن کی نیندیں اڑ گئی ہیں۔

 سندھ سے متعلق عمر ایوب نے کہا کہ کراچی پی ٹی آئی کا گڑھ ہے اور پیپلز پارٹی کراچی کے لوگوں کے ساتھ دشمنی کررہی ہے۔ سندھ میں سال2016 کے سیلاب کے 4 ارب روپے ابھی تک صوبائی حکومت نے خرچ نہیں کئے ہیں۔ سندھ حکومت کے پاس 220 ارب روپے موجود ہیں لیکن وہ خرچ کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔سندھ حکومت نے پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ ہی نہیں بنایا کیونکہ ان کے کھانچے لگے ہوئے ہیں۔ صحت کارڈ کی صورت میں لوگوں کی جیب میں 10 لاکھ روپے پڑے ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں