مغربی کمپنیوں کی کمزوریاں، بڑے سائبر حملوں سے بچاؤ آسان نہیں

مغربی ملکوں میں کیے گئے ہائی پروفائل سائبر حملوں نے کمپنیوں کی کمزوریوں کو سامنے لاتے ہوئے مسئلے کی اہمیت اجاگر کی ہے تاہم اس کا کوئی آسان حل موجود نہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مئی کے اوائل میں سائبر حملے کرنے والے مجرموں نے امریکی فیول کمپنی کولونیئل کی پائپ لائن کو تاوان کے لیے نشانہ بنا کر یہ بتایا کہ ان کے پاس کیسے معمول کی زندگی میں رخنہ ڈالنے کی صلاحیت ہے۔
مزید پڑھیں
کمپنی کی آن لائن سرگرمیوں پر ہونے والے اس حملے سے امریکہ میں گاڑی چلانے والوں کو ایندھن کی کمی کا سامنا ہوا۔ 
سال 2020 کے آخر میں امریکی حکام نے انکشاف کیا کہ ہیکرز نے امریکی حکومت اور کمپنیوں کی جانب سے چلائے جانے والے سولر ونڈز سافٹ ویئر پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے کا الزام روس پر لگایا گیا تھا۔ 
دیگر حملوں میں 2016 کے انتخابات سے قبل ڈیموکریٹک پارٹی کی ہیکنگ شامل ہے۔ 
اس کے علاوہ عالمی سطح پر ‘وانا کرائے’ اور ‘نوٹ پیٹیا’ نامی عالمی سائبر حملوں نے 2017 میں دنیا بھر میں کمپیوٹرز کے سسٹم کو معطل کر دیا تھا۔ 
خبروں میں آنے والے ان بڑے واقعات کے علاوہ برسوں سے سائبر سکیورٹی کے ادارے اور ماہرین آن لائن حملوں کے بارے میں تنبیہ کیے جا رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ ہیکرز کی جانب سے کیے جاتے ہیں تو کچھ حکومتوں کی طرف سے کروائے جاتے ہیں۔ 
واشنگٹن کے تھنک ٹینک سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز سے منسلک سوزانے سپالڈنگ کا کہنا ہے کہ ’یہ خیال کرنا مشکل ہے کہ اب تک اس قدر شدید سائبر حملے ہوئے ہی نہیں کہ سب کو احساس ہو کہ یہ مسئلہ کتنا اہم ہے۔‘

سائبر حملوں میں 2016 کے انتخابات سے قبل ڈیموکریٹک پارٹی کی ہیکنگ شامل ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
ان کا کہنا ہے کہ ان سب کے باوجود اس مسئلے کو جو ترجیح ملنی چاہیے تھی وہ نہیں ملی۔ 
اے ایف پی کے مطابق انفرادی سطح پر ہونے والے سائبر حملوں سے بچاؤ کا بہترین طریقہ ہے کہ مشکوک ای میلز ڈیلیٹ کر دی جائیں، سافٹ ویئر کو باقائدگی سے اپڈیٹ کیا جائے، پاس ورڈ بدلے جائیں اور بیک اپ کو محفوظ رکھا جائے۔ 
بڑی کمپنیاں مخصوص آئی ٹی سکیورٹی ٹیموں کی خدمات حاصل کرنے کی مالی استطاعت رکھتی ہیں اور کسی بھی بڑے حملے سے خود کو محفوظ کرنے کے لیے اقدامات کر سکتی ہیں۔ 
تاہم سوزین سپالڈنگ کا کہنا ہے کہ کئی ادارے اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں دیکھتے۔