مفتاح اسماعیل کی چیف الیکشن کمشنرکو ہنگامی کارروائی کی درخواست

پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما اور این اے 249 میں دوسرے نمبر پرآنےوالے امیدوارمفتاح اسماعیل نے چیف الیکشن کمشنر کو ہنگامی کارروائی کیلئےدرخواست دائر کردی ہے۔

مفتاح اسماعیل کی درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ این اے 249 سے سربمہر بیلٹ پیپرز اور دیگر سامان الیکشن کمشن اپنی تحویل میں لے۔انتخابی مواد فیصلہ ہونے تک کسی محفوظ مقام پررکھا جائے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پولنگ کا عملہ،پریذائیڈنگ افسران کی اکثریت کا تعلق سندھ حکومت سے تھا۔ عملے نے سندھ حکومت کا ساتھ دیا اور جس پر ہر امیدوار نےبھی شکایت کی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیلٹ پیپرز کی حفاظت سے متعلق شدید خدشات ہیں۔ بیلٹ پیپرز، کاؤنٹر فائلز، انتخابی فہرستوں کی نقول میں ردوبدل کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

 ہفتے کو الیکشن کمیشن نے کراچی کے حلقہ این اے 249 کا حتمی نتیجہ جاری کرنے سے روکتے ہوئے تمام امیدواروں کو نوٹس جاری کردیے۔حکم نامے کے مطابق بادی النظر میں الیکشن کمیشن موجودہ صورتحال میں مداخلت کرسکتا ہے۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کی جانب سے امیدوار مفتاح اسماعیل نے پورے حلقے کی دوبارہ گنتی کی درخواست دی تھی، جس پر الیکشن کمیشن 4 مئی کو درخواست پر سماعت کرے گا۔

تحریری فیصلے کے مطابق ‏انتخابی قواعد کے تحت کامیابی کا فرق 5فیصد ووٹ سے کم ہے۔ پیٹنشر نے بتایا کہ فارم 45 کا فرانزک آڈٹ ضروری ہے۔

اس سے قبل پنجاب سے قومی اسمبلی کی نشست ڈسکہ میں بھی مسلم لیگ ن کی درخواست پر نتیجہ روکا گیا تھا۔

این اے 249: پیپلزپارٹی نے سیٹ جیت لی

ہفتے کو وزیراعظم عمران خان نے اپنی ٹویٹ میں کہا تھا کہ این اے249 ضمنی انتخاب میں کم ٹرن آؤٹ رہا اور کم ٹرن آؤٹ کے باوجود تمام جماعتیں دھاندلی کا دعویٰ کر رہی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ صورتحال حال ہی میں ڈسکہ میں بھی پیش آئی اور سینیٹ انتخابات میں بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا تھا، 1970 کے سوا تمام انتخابات کے نتائج پر سوال اٹھے۔

جمعرات 29اپریل کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں  پیپلزپارٹی کے امیدوار قادر مندوخیل 16ہزار 156 ووٹ لر کے کامیاب قرار پائے جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار مفتاح اسماعیل 15ہزار 473 ووٹ لے کر دوسرے نمبر رہے۔

تحریک لبیک پاکستان کا امیدوار 11 ہزار 125 ووٹ کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔ یی ایس پی چوتھے، ایم کیو ایم پاکستان پانچویں جبکہ حکومتی جماعت تحریک انصاف چھٹے نمبر پر رہی۔

تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا کے مستعفی ہونے کے بعد یہ نشست خالی ہوئی تھی۔

متعلقہ خبریں