ملازمين کی تفصيلات مانگنا نيب کا اختيار نہيں، سندھ حکومت

دیہی ڈومیسائل پرملازمین کی کراچی، حیدرآباد تعیناتی کا معاملہ

سندھ کے دیہی ڈومیسائل کے حامل ملازمین کی کراچی اور حیدرآباد میں تعیناتی کے معاملے پر سندھ حکومت نے نیب سے تعاون نہ کرنے کا اعلان کر دیا۔

ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے موقف اختیار کیا ہے کہ ملازمین کی تعیناتی کی تفصیلات مانگنا نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ خط غیر قانونی ہے اور اس خط کی زبان اشتعال انگیز ہے لہٰذا چیئرمین نیب اس معاملے کی تحقیقات کریں۔

نیب نے 28اپریل کو سندھ حکومت کو لکھے گئے خط میں کہا تھا کہ گریڈ بی ایس ون سے بی ایس 20 تک کے ایسے تمام ملازمین کی تفصیلات فراہم کر دی جائیں جو دیہی ڈومیسائل رکھنے کے باوجود کراچی اور حیدرآباد میں تعینات ہیں۔

سندھ کے کچھ محکموں نے نیب کے خط پر عمل درآمد بھی شروع کر دیا تھا جس میں محکمہ ورکس اینڈ سروسز کا 5مئی کا  خط بھی سامنے آچکا ہے مگر محکمہ ورکس اینڈ سروسز نے سندھ حکومت کی نئی ہدایت پر 5مئی کے خط  کو واپس لے لیا۔

دوسری طرف نیب نے کہا ہے کہ 27مئی کے خط کے سوشل میڈیا پر گردش کرنے سے ایک ایسا تاثر بنا ہے جو حقائق کے برعکس ہے۔ خط کا غلط تاثر بننے پر نیب کو افسوس ہے اور اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے نیب جلد ہی نیا خط لکھے گا۔

نیب نے یہ خط سندھ حکومت کو صرف معلومات کے حصول کے لیے لکھا تھا۔ نیب واضح کرتا ہے کہ نیب کراچی پہلے سے سندھ میں جعلی ڈومیسائل اور غیر رہائشیوں کو ڈومیسائل کے اجرا اور اس معاملے میں اختیارات کے غلط استعمال اور کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

ایسے  ملازمین کو شہری علاقوں میں تعینات کرنا جو اس کا حق نہیں رکھتے خلاف قانون ہے۔

متعلقہ خبریں