ملتان : تین بچوں کے قاتل سگے ماں باپ نکلے

ابتداء میں ہلاکت کا الزام ایک اتائی پر تھا

ملتان میں چند روز قبل بظاہر اتائی کی دوا سے جاں بحق ہونے والے 3 معصوم بچوں کے کیس نے نیا رخ اختیار کرلیا۔

پولیس کے مطابق ملتان کے نواحی علاقے حامد پور کنورہ کے ایک بھٹہ مزدور کے 3 بچے کسی زہریلی شے کھانے کے سبب جاں بحق ہوگئے تھے جس پر والدین کا بیان تھا کہ بچوں کی طبعیت خراب ہوجانے کی صورت میں ان لوگوں نے ایک اتائی ڈاکٹر کی دوا انہیں دی تھی جس پر حالت غیر ہونے کے بعد وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

والدین کے بیان کی روشنی میں اتائی کو گرفتار کرکے اس کا کلینک سیل کردیا گیا تھا جبکہ اس واقعے کے 5 روز بعد بچوں کے والد خادم حسین نے خودکشی کرلی تھی۔

تاہم پولیس کا دعویٰ ہے کہ جب تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا گیا تو تینوں بچوں کے قاتل ان کے سگے ماں باپ نکلے اور پتہ چلا کہ دونوں میاں بیوی نے اتائی کی دوائی سے ہلاکت کا ڈرامہ رچایا تھا۔

بچوں کی ماں سمیرا کا بیان ہے کہ زہریلی شے دونوں نے مل کر بچوں کو پلائی اور ان دونوں کو پتہ تھا کہ وہ بچوں کو کیا دے رہے ہیں۔ خادم حسین وہ زہریلی شے اتائی کے پاس سے نہیں بلکہ کہیں اور سے لایا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان دونوں میاں بیوی کے مالی حالات بہت خستہ تھے، خاوند کی ٹانگ ٹوٹ جانے کے سبب کافی عرصے سے وہ گھر بیٹھ گیا تھا اور ظاہر یہی ہوتا ہے کہ دونوں نے غربت سے تنگ آکر بچوں کو زہردے دیا۔

پولیس کا مزید کہنا ہے کہ گھر کے عقب ميں ایک گڑھے سے زہریلا مواد برآمد کرکے بچوں کی والدہ سمیرا سمیت اس کے 3 رشتہ داروں کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں