ملکوں کی پیشرفت کاانحصارخطے کی ترقی پرہوتا ہے، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ دنیا میں کوئی بھی ملک اکیلا آگے نہیں بڑھ سکتا بلکہ اس کی ترقی کا دارومدار خطے کی ترقی ہوتا ہے۔
اسلام آباد میں اقتصادی تعاون تنظیم ای سی او کی پارلیمانی اسمبلی کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ای سی او کے 10 رکن ممالک کی کل آبادی 45 کروڑ سے زائد ہے اور اتنی بڑی آبادی کو اگر ہم صحیح طریقے سے باہم مربوط کریں تو پورے خطے کا فائدہ ہوگا کیوں کہ کوئی ملک اکیلے ترقی نہیں کرسکتا۔

عمران خان نے ای سی او کے تمام رکن ممالک کے درمیان رابطوں کے فروغ کو ایک اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں باہمی تجارت سے سب کا فائدہ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین ہمارے سامنے بنی ہے اور جس ملک نے اس اتحاد کو جوائن کیا ان کی طرز زندگی دیکھتے دیکھتے بہتر ہوئی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پورے خطے کو موسمیاتی تبدیلیوں کا بھی سامنا ہے جس کے لیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے اور ہم اس حوالے سے سن 2013 سے کام کررہے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد نہیں ہورہا ہمیں ان مسائل پر بھی آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج تاجکستان کے صدر سے ملاقات ہوئی جس میں افغانستان کی صورتحال پر غور کیا گیا اور فیصلہ ہوا کہ امریکی افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان میں امن و امان کےلیے بھرپور کوشش کی جائے گی کیوں کہ وہاں کے حالات کی وجہ سے پورے خطے کا نقصان ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان میں صورتحال بہتر نہ ہوئی تو اس کا اثر پورے خطے پر پڑے گا جس کے لیے کوشش کرنی ہوگی بصورت دیگر وہاں وہی ہوگا جو سویت یوین کے انخلاء کے بعد ہوا تھا۔

وزیراعظم نےای سی او کانفرنس کے اسلام آباد چارٹر کی منظوری کےلیے تمام شرکاء کا شکریہ بھی ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ اس پلیٹ فارم سے تعلقات تمام شعبوں تک بڑھائے جائیں گے جس کا فائدہ پورے خطے کو ہوگا۔

متعلقہ خبریں