ملکہ کے جانشین شہزادہ چارلس 73 برس کی عمر میں بادشاہ

اپنی والدہ ملکہ الزبتھ دوم کے انتقال کے بعد شہزادہ چارلس بالآخر برطانیہ کے بادشاہ بن گئے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق شہزادہ چارلس نے بادشاہ بننے کے لیے 70 برس انتظار کیا جو کسی بھی جانشین کا برطانوی تاریخ میں عہدہ ملنے کے لیے طویل ترین انتظار ہے۔
مزید پڑھیں
اُن کے لیے یہ کردار ایک مشکل کام بھی ہوگا۔ اُن کی آنجہانی والدہ بہت زیادہ مقبول تھیں اور اُن کا احترام کیا جاتا تھا لیکن انہوں نے اپنے پیچھے ایک ایسا شاہی خاندان چھوڑا ہے جس کی ساکھ داغدار اور تعلقات میں تناؤ ہے۔
ان میں سے ایک بکنگھم پیلس پر نسل پرستی کے طویل عرصے سے لگائے جانے والے الزامات بھی ہیں۔
برطانیہ کی گزشتہ ایک ہزار برس کی تاریخ میں شاہ چارلس سوئم 73 برس کی عمر میں تاج سر پر رکھنے والے سب سے عمر رسیدہ شخصیت ہوں گے۔ اُن کے ساتھ دوسری اہلیہ کمیلا ہیں جن کے بارے میں برطانوی عوام کی رائے منقسم ہے۔
ناقدین کے مطابق نئے بادشاہ کمزور، بے کار اور اس کردار کی خومختاری کے حوالے سے کم صلاحیت کے حامل ہیں۔
اُن کی ماحولیات اور تعمیرات میں گہری دلچسپی کا مذاق اڑایا گیا۔ آنجہانی شہزادی ڈیانا سے ناکام ہونے والی پہلی شادی بھی شاہ چارلس سوئم سے ہمیشہ منسلک رہے گی۔

ملکہ الزبتھ دوم کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
اُن کے حامی کہتے ہیں کہ ’چارلس کے اچھے کاموں کو نظرانداز کر کے اُن کو سمجھا ہی نہیں گیا اور یہ کہ وہ اپنے وقت سے آگے کی سوچ رکھتے ہیں اس لیے ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے میں حساس ہیں۔‘
شاہ چارلس سوئم کے حامیوں کا استدلال ہے کہ وہ تمام برادریوں اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اپنے شہریوں کے بارے میں فکر مند ہیں۔
ان کے پرنس ٹرسٹ چیریٹی نے تقریباً 50 سال قبل اپنے آغاز کے بعد سے اب تک 10 لاکھ سے زیادہ بے روزگار اور پسماندہ نوجوانوں کی مدد کی ہے۔
انہوں نے ایک بار ایک ٹی وی کی دستاویزی فلم میں بتایا تھا کہ مصیبت یہ ہے کہ ’آپ ناکام ہو رہے ہیں اور اگر آپ کچھ نہیں کرتے تب لوگ شکایت کرتے ہیں۔ اگر آپ مدد کی کوشش کرتے ہوئے پھنس جاتے ہیں تب بھی وہ شکایت کرتے ہیں۔‘

چارلس 73 برس کی عمر تاج سر پر رکھنے والے سب سے عمر رسیدہ شخص ہوں گے۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
اپنی پوری زندگی کے دوران چارلس ایک جدید طرز کی بادشاہت اور ایک تیزی سے بدلتے ہوئے اور زیادہ مساوی معاشرے کے درمیان پھنسے رہے جہاں شاہی روایات اور بادشاہت کے ادارے کی کشش کو بھی برقرار رکھنا ہے۔