ملک بھر میں ٹک ٹاک پر ایک بارپھر پابندی عائد

فائل فوٹو

ملک بھر میں ٹک ٹاک پر ایک بار پھر پابندی عائد کردی گئی۔ سندھ ہائیکورٹ نے پی ٹی اے کو ایپلیکیشن فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دیدیا۔

سندھ ہائیکورٹ میں ٹک ٹاک کیخلاف بیرسٹر اسد اشفاق کی درخواست کی سماعت ہوئی، درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی اور غیراسلامی مواد رکھا جارہا ہے، پی ٹی اے کو شکایت دی تاہم تاحال کارروائی نہیں کی گئی۔

سندھ ہائیکورٹ نے ملک بھر میں ایک بار پھر ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرتے ہوئے پی ٹی ای کو ایپلیکیشن فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دیدیا۔

سندھ ہائیکورٹ نے معاملے پر اٹارنی جنرل اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 8 جولائی تک جواب طلب کرلیا۔

اس سے قبل بھی دو بار پاکستان میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کی جاچکی ہے، 11 مارچ 2020ء کو پشاور ہائیکورٹ کے حکم پر پی ٹی اے نے ٹک ٹاک بند کردی تھی، عدالت نے موبائل ایپلیکیشن سے غیر اخلاقی مواد ہٹانے کی ہدایت کی تھی تاہم یکم اپریل کو عدالت عالیہ نے ٹک پر سے پابندی اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ اس پر غیر اخلاقی مواد اپلوڈ نہیں ہونا چاہئے، پی ٹی اے ایسا سسٹم بنائے جو اچھے اور برے میں تفریق کرسکے۔

مزید جانیے: پشاور ہائی کورٹ نے دوبارہ ٹک ٹاک کھولنے کی اجازت دیدی

واضح رہے کہ جامعہ اشرفیہ لاہور نے ایک شہری کے سوال کے جواب میں دیے گئے فتوے میں کہا تھا کہ سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی جانے والی ٹک ٹاک اور اسنیک ویڈیو ایپ کی گندی اور بیہودہ ویڈیوز ایمان ختم کرنیوالی چیزیں ہیں لہذا ان ایپلی کیشنز کو استعمال کرتے ہوئے ویڈیوز بنانا اور انہیں آگے بھیجنا حرام ہے۔

متعلقہ خبریں