ملک کی پہلی نیشنل سائبر سکیورٹی پالیسی تیار کر لی ہے: امین الحق

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی سید امین الحق نے کہا ہے کہ ’پاکستان کی سرکاری اور نیم سرکاری ویب سائٹس پر روزانہ کی بنیاد پر نو لاکھ حملے ہوتے ہیں جن کو مد نظر رکھتے ہوئے ملک کی پہلی نیشنل سائبر سکیورٹی پالیسی تیار کر لی ہے، جس کی جلد ہی کابینہ سے منظوری لی جائے گی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے لیے انٹرنیٹ ووٹنگ کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے سامنے دو تین آپشنز رکھ دیے ہیں۔ پرامید ہیں کہ 2023 کے انتخابات میں اوورسیز پاکستانی ووٹ ڈال سکیں گے۔‘
اردو نیوز‘ کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ’نیشنل سائبر سکیورٹی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے متفقہ طور پر تیار کر لی ہے اور اب یہ وزارت قانون کے پاس جائے گی۔ ہماری یہ خواہش ہوگی کہ پاکستان میں نیٹ ورک پر جتنا کام ہو رہا ہوتا ہے، ڈیٹا استعمال ہو رہا ہے، اسے ہر صورت میں محفوظ بنایا جائے۔ نہ صرف ریگولر ہیکرز بلکہ دیگر ممالک کی جو ایجنسیاں ہیں ان سے بھی حفاظت کی جائے۔‘
مزید پڑھیں
انھوں نے کہا کہ ’آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ روزانہ کی بنیاد پر نو لاکھ ہیکرز پاکستان کی سرکاری اور نیم سرکاری ویب سائٹس پر حملہ آور ہوتے ہیں، لیکن ہمارا سسٹم اچھا ہے کہ ان کو ناکام بنا دیتا ہے۔ پہلی نیشنل سائبر سکیورٹی پالیسی بننے جا رہی ہے۔ مجھے چند دن اور دیں گے میں انشاءللہ آپ کو خوشخبری دوں گا۔‘
وزیر آئی ٹی نے بتایا کہ ’ایک تو پیشہ ور قسم کے ہیکرز ہوتے ہیں وہ بھی اپنی کوشش کرتے ہیں لیکن ہمارے پاس سب سے زیادہ ہیکنگ انڈیا، روس اور کچھ ایران سے بھی ہوتی ہے۔ یہ تین ایسے ممالک ہیں جہاں سے ہمارے پاس ہیکنگ بہت زیادہ ہوتی ہے۔‘
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ ’ایران سے ہونے والی ہیکنگ پیشہ ور ہیکرز کرتے ہیں۔۔ سرکاری سطح پر ہیکنگ نہیں ہوتی لیکن اگر یہ سلسلہ بڑھا تو ہم ایران کی حکومت سے اس معاملے پر بات بھی کریں گے۔‘
سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ’ہماری جماعت سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کی حامی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ماہانہ اربوں ڈالر پاکستان بھیجتے ہیں تو انھیں پاکستان کے فیصلہ سازی کے عمل میں شرکت کا حق بھی ہونا چاہیے۔‘

سید امین الحق نے کہا کہ ’ 2017-2016  کے بعد سپیکٹرم کی نیلامی نہیں ہوئی‘ (فوٹو: ٹوئٹر)
امین الحق نے بتایا کہ ’وزیر اعظم نے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے انٹرنیٹ ووٹنگ کا ٹاسک وزارت آئی ٹی کو دیا ہے۔ ’ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ وزیراعظم کے اعتماد اور اعتبار کو لے کر چلیں گے۔ آئی ووٹنگ کی بنیادی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی بنتی تھی کیونکہ وہ ایک خود مختار اور آزاد ادارہ ہے۔ ہم نے ان سے کہا ہے کہ ’ہم تکینکی طور پر کام کرنے کو تیار ہیں لیکن تب کریں جب آپ ہمیں تحریری طور پر کہیں گے۔ جب انھوں نے لکھ کر دیا تو ہم نے چیزوں کو آگے بڑھایا۔‘
وفاقی وزیر کے مطابق ’ابھی جو نادرا کے پاس سسٹم موجود ہے اس میں کمی ہے، اس کو اگر بہتر کریں گے تو بہتری ہو سکتی ہے۔  اس میں کچھ سرمایہ کاری کی بھی ضرورت ہوگی۔ دوسری چیز انھوں نے بتائی کہ یا تو پھر آپ مکمل نظام ہی باہر سے ہائر کریں اور زیرو سے چیزوں کو سٹارٹ کریں۔ ہم نے دونوں تینوں تجاویز الیکشن کمیشن آف پاکستان کو دی ہیں اور ٹائم لائن کے ساتھ بتایا ہے کہ 9 سے 12 ماہ میں ہمیں یہ کام مکمل کرنا ہے۔ اگر ہم 18 یا 24 ماہ پر گئے تو 2023 کی ڈیڈ لائن مس کر جائیں گے۔‘
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’میں ذہنی طور پر مطمئن ہوں کہ ہماری وزارت کی جو ٹیم انٹرنیٹ ووٹنگ پر کام کر رہی ہے، وزیراعظم کی ٹاسک فورس بھی موجود ہے الیکشن کمیشن کی ٹاسک فورس بھی شامل ہو جائے گی۔ ہم بلاک چین کو استعمال کرتے ہوئے اور ایک محفوظ ترین نظام بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے اور 2023 کا الیکشن اوورسیز پاکستانیوں کے لیے خوشخبری لے کر آئے گا۔‘
سید امین الحق نے کہا کہ 2017-2016 کے بعد سپیکٹرم کی نیلامی نہیں ہوئی۔ جب کووڈ 19 میں ہم آئے تو پتا لگا کہ ہمیں کنیکٹویٹی اور براڈبینڈ کے حوالے سے چیزوں کو آگے بڑھانا پڑے گا۔ ’بدقسمتی سے پاکستان میں ایک مخصوص مائنڈ سیٹ موجود تھا جس نے سپیکٹرم کو اپنے کنٹرول میں رکھا ہوا تھا۔ ہم نے پی ٹی اے اور فریکوئنسی ایلوکیشن بورڈ کے ساتھ بیٹھ کر بات کی۔ ہم نے ان کو قائل کیا کہ سپیکٹرم کو خوامخواہ بچا کر رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ آپ اس کی نیلامی کریں جس سے عوام کو بھی فائدہ پہنچے گا اور حکومت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔‘

امین الحق نے بتایا کہ ’وزیراعظم نے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے انٹرنیٹ ووٹنگ کا ٹاسک وزارت آئی ٹی کو دیا ہے‘ (فوٹو: ٹوئٹر)
انھوں نے کہا کہ ’بالآخر ہم کامیاب ہوئے اور وزیر اعظم سے مشاورت کے بعد کمیٹی بنائی اور کمیٹی نے تمام کام مکمل کر لیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگلے ماہ 1800 میگا ہرٹس اور 2100 میگا ہرٹس پر سپیکٹرم کی نیلامی ہوگی۔ اس سے دو فوائد حاصل ہوں گے۔ ایک تو حکومت کو کروڑوں ڈالر ملیں گے جو ہمارے خزانے میں آئیں گے اور دوسرا عام آدمی کو فائدہ پہنچے گا کہ فور جی کی کنیکٹویٹی بڑھے گی اور اس سے فائیو جی کے لیے بھی مدد ملے گی۔‘
بجٹ میں فون کالز، ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ پر ٹیکس بڑھانے کی حکومتی تجویز کے بارے میں سوال پر وزیر آئی ٹی نے کہا کہ ’بالکل صاف گوئی سے کام لیتا ہوں کہ یہ جو موبائل فون کے تین منٹ کی کال کے بعد ایک روپے کا اضافہ کرنے، ایس ایم ایس پر دس پیسے اضافہ کرنے اور انٹرنیٹ ڈیٹا پر پانچ روپے کا اضافہ کرنے کی تجویز تھی اس سلسلے میں ایف بی آر اور سٹیٹ بینک نے وزارت آئی ٹی سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ اگر اس وقت ہی مشورہ کر لیتے تو ہم سختی کے ساتھ مخالفت کرتے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’گڈ نیوز یہ ہے کہ 11 جون کو بجٹ پیش ہو رہا تھا اور اس سے پہلے یہ تجویز منظوری کے لیے کابینہ میں آئی اور جونہی یہ سلائیڈ چلی تو فوری طور پر بطور منسٹر آئی ٹی میں نے اس پر اعتراض کیا۔ ہم نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ آپ کی پالیسی ہے ڈیجیٹل پاکستان، اگر ہم کال ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ پر ٹیکس میں اضافہ کر دیں گے تو آپ کی ڈیجیٹل پالیسی کامیاب ہوتی نظر نہیں آئے گی۔ خوشی ہے کہ باقی وزرا نے بھی ساتھ دیا اور شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وزیراعظم نے اس کو زبردست طریقے سے مسترد کر دیا اور یقینی بنایا کہ بجٹ تقریر میں اس کا تذکرہ کر دیا جائے۔‘
سوشل میڈیا رولز کے تحت سوشل ویب سائٹس کے پاکستان میں دفاتر کھولنے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ’سوشل میڈیا رولز پر حتمی مشاورت ہو چکی ہے۔ تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا گیا ہے اور چاہتے ہیں کہ رولز متفقہ طور پر منظور کیے جائیں۔‘

امین الحق نے کہا کہ ’2023 کا الیکشن اوورسیز پاکستانیوں کے لیے خوشخبری لے کر آئے گا‘ (فوٹو: ٹوئٹر)
سوشل ویب سائٹس کے پاکستان میں دفاتر کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ چند ماہ پہلے پی ٹی اے نے پب جی کو بین کیا۔ بند کرنے سے پہلے جب ڈھونڈا گیا تو پتا چلا کہ پب جی کا کوئی بندہ بھی پاکستان میں نہیں تھا۔ پب جی پاکستان سے کروڑوں روپے کما رہی ہے۔ جب سوشل میڈیا رولز بننے جا رہے تھے تو اس میں طے ہوا کہ ایسی وہ تمام کمپنیاں چاہے وہ فیس بک ہو، پب جی ہو یا ٹک ٹاک ہو جن کے کم از کم پانچ لاکھ یوزرز پاکستان میں موجود ہوں ہم نے ان سے درخواست کی ہے کہ آپ لازمی پاکستان میں اپنا دفتر قائم کریں۔‘
وفاقی وزیر نے بتایا کہ ’جلد ہی پاکستان میں مقامی سطح پر موبائل فونز کی پیداوار شروع کر دی جائے گی۔ جب موجودہ حکومت آئی تو 2018 میں 16 کروڑوں لوگ موبائل فون استعمال کر رہے تھے اب 18 کروڑ 20 لاکھ سے زائد لوگ موبائل فون استعمال کر رہے ہیں۔ 2018 میں 7 کروڑ لوگ براڈ بینڈ استعمال کر رہے تھے یہ تعداد اب 10 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔‘