منہ سے غلط الفاظ غصے میں نکلے،روحیل اصغر

گالی دینے پر نرالی منطق بھی پیش کردی

ن لیگی رہنما روحیل اصغر نے گالیاں دینے کی باتوں پر اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ غصے میں منہ سے غلط الفاظ نکلے۔

اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں جب صحافی کی جانب سے 15 جون کو قومی اسمبلی میں ہونے والی ہنگامی آرائی سے متعلق سوال پوچھا گیا کہ ” کیا گالی دینا اچھی بات ہے”؟ تو مسلم لیگ ن کے رہنما شیخ روحیل اصغر نے نرالی منطق پیش کرتے ہوئے کہا کہ گالی دینا کلچر کا حصہ ہے، جب کہ حکومت کی جانب سے ان کے اس بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ غصے میں میرے منہ سے غلط الفاظ نکلیں، جس کا مجھے اندازہ ہے، مگر کوئئی بتائے کہ خاتون پر حملہ ہو، سابق وزیراعظم کو مارا جائے اور معزز ایوان کے اراکین پر ہاتھ اٹھایا جائے تو ، کیا ہم چپ رہیں؟۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن اراکین کی جانب سے شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی تھی۔ دونوں اطراف سے ایک دوسرے کیخلاف نازیبا الفاظ کا استعمال کیا گیا تھا۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اس بات کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ایوان میں ہنگامہ کرنے والے 7 اراکین کا داخلہ بند کر دیا۔ جن اراکین کے قومی اسمبلی میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما شیخ روحیل اصغر بھی شامل ہیں، جب کہ حکمراں جماعت تحریک انصاف کے 3، مسلم لیگ ن کے بھی 3 اور پیپلز پارٹی کا ایک رکن شامل ہے۔

کارروائی علی نواز اعوان، عبدالمجید، فہیم خان، شیخ روحیل اصغر، علی گوہر خان، چوہدری حامد حمید اور آغا رفیع اللہ کے خلاف کی گئی ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے مطابق اراکین پر پابندی اگلے احکامات تک جاری رہے گی۔

ایوان میں بجٹ کی کاپیاں بھی ایک دوسرے کو ماری گئیں، جس کے دوران پی ٹی آئی رہنما ملیکہ بخاری آنکھ پر کتابچہ لگنے سے اور سیکیورٹی اہل کار زخمی ہوئے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر مملکت فرخ حبیب نے لیگی رہنما شیخ روحیل اصغر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ‏اپنی سوچ اور گندی زبان کو پنجاب کے کلچر سے نہ جوڑیں۔ ہمارا کلچر ماؤں اور بہنوں کی عزت سکھاتا ہے۔ غلیظ گالیاں دینا ہمارے کلچر کا حصہ نہیں ہے۔ ن لیگ کی قیادت ان کو سمجھائے۔

متعلقہ خبریں