مونس الٰہی کے بیان سے سیاست میں فوج کی عدم مداخلت کا معاملہ مشکوک ہوا: وزیر داخلہ

پاکستان کے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ چوہدری مونس الٰہی کے بیان نے فوج کی سیاست میں عدم مداخلت کے موقف کو مشکوک کر دیا ہے، جس کی وضاحت ہونی چاہیے۔
سنیچر کو لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے ایک سوال پر یہ مصرعہ ’ہوئے تم دوست جس کے، دشمن اس کا آسماں کیوں ہو‘ پڑھتے ہوئے کہا کہ ’میں داد دیتا ہوں مونس الٰہی کو، آخر ضرورت کیا تھی بیان دینے کی، بھٹہ ہی بٹھا دیا ہے۔‘
مزید پڑھیں
رانا ثنا اللہ کے مطابق ’میں سمجھتا ہوں کہ اگر اس سے جنرل قمر باجوہ کو کوئی نقصان پہنچا بھی ہے تو وہ میٹر نہیں کرتا کیونکہ وہ جا چکے ہیں۔‘
’اس بیان نے ادارے کے اس موقف کو پر شکوک پیدا کیے ہیں جو اس کی جانب سے قوم کے سامنے اختیار کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ سیاست میں دخل نہیں دینا۔‘
انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں پورا یقین ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر اور ڈی جی آئی ایس آئی نے جو وعدہ کیا ہے وہ درست ہے اور اسی کے مطابق اپنی خدمات انجام دیں گے۔‘
یاد رہے جمعے کو مونس الٰہی نے کہا تھا کہ پنجاب حکومت ختم ہونے کے بعد اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے چوہدری پرویز الٰہی کو عمران خان کا ساتھ دینے کا کہا تھا۔

’عمران خان سے مذاکرات کے معاملے پر مشاورت ہو گی‘

عمران خان کی جانب سے صوبائی اسمبلیاں توڑنے کے بعد کے لائحہ عمل کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ اس پر مشاورت ہو گی۔
’میرا ذاتی خیال ہے کہ اگر پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں توڑی جاتی ہیں تو وفاق، بلوچستان اور سندھ کی حکومتیں برقرار رکھتے ہوئے الیکشنز کروائے جائیں گے۔‘
رانا ثنا اللہ نے سابق صدر آصف علی زرداری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بات دو ٹوک پر کہہ دیا ہے کہ سندھ اسمبلی کو برقرار رکھا جائے گا۔
بلوچستان اسمبلی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ وہ بھی برقرار رہے گی۔
اسمبلی توڑ دی گئی تو کیا ہو گا؟ اس سوال پر انہوں نے کہا کہ پھر انتخابات ہوں گے۔
نواز شریف کی واپسی کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے بتایا کہ اگر اسمبلیاں ٹوٹتی ہیں اور ضمنی انتخابات ہوتے ہیں تو ان کی مہم وہی چلائیں گے اسی طرح اگر ایسا نہیں ہوتا اور جنرل انتخابات آتے ہیں تو اس کی کمپین میں بھی وہ ہمارے ساتھ ہوں گے۔
عمران خان کی جانب سے حکومت کو مذاکرات کی پیش کش کے حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک وہ کسی کے ساتھ بیٹھنے اور ہاتھ ملانے کے روادار نہیں تھے۔
انہوں نے کہا کہ سیاست میں مذاکرات کا دروازہ بند نہیں ہوتا، ان سے مذاکرات کے بارے میں بھی اتحادیوں سے مشاورت کی جائے گی۔