میاں جاوید لطیف کےخلاف شیخوپورہ میں ایک اور مقدمہ درج

ضلعی انتظامیہ نے مسلم لیگ کے رکن قومی اسمبلی میاں جاوید لطیف کے خلاف شیخوپورہ کے تھانہ صدر میں کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کروا دیا ہے۔

گزشتہ روز میاں جاوید لطیف لاہور جیل سے رہائی کے بعد شیخوپورہ انٹرچینج پہنچے تو لیگی کارکنان کی بڑی تعداد نے میاں جاوید لطیف کا استقبال کیا۔ اس موقع پر میاں جاوید لطیف شیخوپورہ موٹروے انٹرچینج سے ریلی کی قیادت کرتے ہوئے اپنے گھر پہنچے۔

ریلی میں مسلم لیگ نون کے کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔شیخوپورہ کے تھانہ صدر میں سرکاری اہلکار شفاقت کی مدعیت میں کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کروایا گیا ہے۔مقدمے میں میاں جاوید لطیف کے 2 بھائی میاں منور اور میاں امجد لطیف اور بیٹے میاں احسن جاوید سمیت 8 نامزد اور 220 نامعلوم افراد شامل کیے گئے ہیں۔

جمعرات کو شہری محمد عباس اور محمد صدیق نے جاوید لطیف کے ضمانتی مچلکے جمع کروائے۔ سیشن عدالت نے جاوید لطیف کی ضمانت کے حوالے سے 4 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا جس میں قرار دیا گیا ہے کہ ایف آئی آر میں بغاوت سے متعلق کوئی واضح الزام نہیں ہے۔ تفتیشی رپورٹ میں کسی ادارے کے خلاف بیان دینے کا کوئی ذکر نہیں۔ مدعی نے ایک اندیشہ کی بنیاد پرایف آئی آر درج کرائی اور جاوید لطیف کے خلاف بغاوت پرمبنی مواد ریکارڈ پر موجود نہیں ہے۔جاوید لطیف کی درخواست ضمانت منظوردو دو لاکھ کے مچلکوں کےعوض منظورکی جاتی ہے۔

بدھ کی شام جوڈيشل مجسٹريٹ احسن رضا نے ریاست مخالف بیانات کے مقدمہ ميں ملوث مسلم ليگی رہنما جاويد لطيف کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع پر محفوظ فیصلہ سنایا تھا۔ جاوید لطیف کو 9 جون کو سیشن کورٹ لاہور نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

متعلقہ خبریں