میری کارکردگی سےپاکستان جیتا توخوشی ہوتی، سعود شکیل

فوٹو: پی سی بی

لارڈز کے تاریخی میدان میں اپنے کیرئیر کی پہلی وکٹ حاصل کرنے اور پھر نصف سنچری بنانے والے نوجوان کرکٹر سعود شکیل کا کہنا ہے کہ ’پاکستان اگر لارڈز میچ انکی اننگز کے باعث جیتا تو انفرادی کارکردگی یادگار بن جاتی‘۔

سعود شکیل نے کہا کہ میرا انٹرنیشنل ڈیبیو کارڈف میں ہوا مگر وہ لارڈز میں کھیلنے کےلیے پرجوش تھے۔ بچپن سے گراؤنڈ پر ہونے والی کرکٹ کو شوق سے دیکھتا تھا۔ کئی مرتبہ تو یہاں کاؤنٹی کرکٹ کے ابتدائی میچز دیکھنے کےلیے اپنا نیٹ سیشن بھی چھوڑ چکے ہیں۔

سعود شکیل کا مزید کہنا تھا کہ ہوم آف کرکٹ پر کھیلنے کے جذبات مختلف تھے۔ یہاں میچ کھیلنا کسی اعزاز سے کم نہیں۔ کوشش تھی کہ یہاں ایسی کارکردگی کا مظاہرہ کروں جس سے ٹیم کو فائدہ ہو۔ انہوں نے میچ کو اختتام تک لے کر جانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر دوسرے اینڈ سے وکٹیں گرنے کے باعث پاکستان میچ نہیں جیت سکا۔ تاہم یہ میچ ان کے لیے بہت سبق آموز رہا اور وہ کوشش کریں گے انٹرنیشنل کرکٹ کے تجربات سے فائدہ اٹھاسکیں۔

نوجوان کرکٹر نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان انگلینڈ کے خلاف آخری ون ڈے میچ جیتنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ قومی کرکٹ ٹیم میں باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں اور کوشش ہے کہ آخری میچ جیت کر سیریز کو اچھے انداز سے ختم کریں۔

واضح رہے کہ نوجوان 25سالہ کرکٹر سعود شکیل نے انگلیںڈ کےخلاف دوسرے ون ڈے میچ میں فل سالٹ کو بولڈ کیا اور 56 رنز کی اننگز کھیلی۔ اس میچ میں کسی بھی پاکستانی بیٹسمین کا سب سے زیادہ اسکور تھا۔

 سعود شکیل نے 2016 میں بھی انگلینڈ کا دورہ کیا تھا، اس ٹور پر سعود شکیل کے علاوہ بابراعظم اور حسن علی بھی پاکستان اے کی نمائندگی کررہے تھے۔

متعلقہ خبریں