میں قانون توڑوں توپولیس ایکشن لےورنہ کارروائی کرونگا

وزیراعظم عمران خان نے آئی جی پولیس اسلام آباد کو ہدایت کی ہے کہ اگر میں بھی قانون کی خلاف ورزی کروں تو میرے خلاف بھی کارروائی کی جائے ورنہ میں آپ کے خلاف کارروائی کروں گا۔
اسلام آباد میں ایگل اسکواڈ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت میں میرا کوئی رشتہ دار نہیں لیکن اگر کوئی دوست یا حکومتی وزیر قانون کی خلاف ورزی کرے تو اس کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ قانون کے نفاذ کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ صرف غریب لوگوں کو جیلوں میں ڈال دیں بلکہ قانون کی حکمرانی اس وقت ہوگی جب طاقتور اور کمزور کے لیے ایک ہی قانون ہوگا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ریاست مدینہ کی بنیاد قانون کی بالادستی پر تھی جس کے ذریعے امن قائم ہوتا ہے اور معاشرہ ترقی و خوشحالی حاصل کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی معاشرے کو انسانی معاشرہ تب ہی کہا جاسکتا ہے جب قانون کی بالادستی ہو ورنہ طاقت کی حکمرانی تو جنگل میں ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کو غریب اور کمزور طبقے کے ساتھ رحم دلی سے پیش آنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محض کمزوروں کو پکڑ کر جیلوں میں ڈالنے سے امن قائم نہیں ہوگا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے ملک کی بدقسمتی ہے کہ ہم آگے نہیں بڑھ سکے حالاں کہ 50 سال پہلے یہ ملک تیزی سے ترقی کررہا تھا اور دنیا میں ہماری عزت تھی۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ پہلے جب صدر پاکستان امریکا و برطانیہ جاتے تھے تو امریکی صدر اور ملکہ برطانیہ ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کرتے تھے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد سیف سٹی پروجیکٹ میں ٹیکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے گا کیوں کہ جب اسلام آباد میں امن ہوگا تو اس سے دنیا میں پورے ملک کا اچھا تصور قائم ہوگا۔

متعلقہ خبریں