نئی پارٹی کے بعد محسن داوڑ پی ٹی ایم کا حصہ نہیں رہے: منظور پشتین

وزیرستان سے قومی اسمبلی کے رکن محسن داوڑ کی جانب سے اپنی نئی سیاسی جماعت بنانے کے اعلان کے بعد اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے ان کے سابق ساتھی اور پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم ) کے سربراہ منظور پشتین نے کہا ہے کہ ’تحریک کے آئین کے مطابق دوسری پارٹی کا عہدیدار پی ٹی ایم کا حصہ نہیں رہ سکتا۔‘
تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق ’نئی جماعت کے اعلان کے بعد خیبر پختونخوا اور خاص کر سابق فاٹا کے علاقوں میں مقبولیت حاصل کرنے والی پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم ) میں ناصرف تقسیم واضح ہو گئی ہے بلکہ پی ٹی ایم کے مستقبل کے حوالے سے بھی خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔‘
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی ایم ایک وسیع تحریک ہے جس کے بڑی تعداد میں ممبرز ہیں اور صوبے میں 95 فیصد لوگ اس کے اب بھی حمایتی ہیں۔‘
مزید پڑھیں
محسن داوڑ کی جانب سے نئی جماعت کے اعلان کے بعد ان کے پی ٹی ایم میں مستقبل کے حوالے سے سوال پر منظور پشتین کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی ایم کا اپنا آئین، منشور اور اصول ہے جس کے مطابق کوئی دوسری پارٹی کا ممبر یا عہدیدار پی ٹی ایم کا عہدیدار نہیں ہو سکتا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ان کے ساتھیوں کے حوصلے بلند ہیں اور وہ بدھ کو ایک فیس بک لائیو میں اس حوالے سے مزید بات کریں گے۔‘
دوسری طرف اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے منظور پشتین کی بات سے اختلاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’وہ اب بھی پی ٹی ایم کا حصہ ہیں۔‘
’ہم ابھی بھی پی ٹی ایم کا حصہ ہیں جو ہم نے بنائی ہے مگر وہ سیاسی جماعت نہیں ہے اور اس کے آئین میں ہے کہ وہ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’کیا منظور پشتین کے پاس منظور شدہ آئین ہے جس کے تحت دوسری جماعت کے لوگ پی ٹی ایم کا حصہ نہیں ہو سکتے؟ انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کے منظور پشتین کے ساتھ اختلافات ہیں تاہم محسن داوڑ نے اسے جمہوری عمل کا حصہ قرار دیا۔‘

پی ٹی ایم نے اپنے جلسوں میں حکومت سے پختونوں کے وسائل پر اختیارات کا مطالبہ کیا (فوٹو: فیس بک منظور پشتین)

نئی سیاسی جماعت کا مقصد کیا ہے؟

اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ ’نئی سیاسی جماعت کا مقصد ہم خیال لوگوں کو اکٹھا کرکے پارلیمانی جدوجہد کرنا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی ایم صرف پختون قوم کی ترجمان ہے جبکہ ان کی نئی جماعت میں تمام قومیتوں کی نمائندگی ہو گی۔‘
’بہت سارے لوگ جو ظلم کا شکار ہیں وہ ہمارے ہم خیال ہیں تاہم ان کے پاس سیاسی پلیٹ فارم نہیں تھا جہاں تمام سیاسی کارکن مل کر جدوجہد کر سکیں۔‘
انہوں نے کہا کہ روایتی سیاسی جماعتیں چند خاندانوں تک محدود ہو گئی ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعت کو ایک ادارہ بنا دیں جو سب کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ ابھی سیاسی جماعت کے نام پر مشاورت ہو رہی ہے تاہم منشور پر کافی کام ہو چکا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل محسن داوڑ نے سوشل میڈیا پر باقاعدہ طور پر ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
محسن داورڈ نے بتایا کہ ان کے ساتھ نئی جماعت میں عوامی نیشنل پارٹی کے سابق سینیٹر افراسیاب خٹک، عوامی نیشنل پارٹی کی سابق رکن قومی اسمبلی بشریٰ گوہر کے علاوہ مشہور سماجی کارکن عمار علی جان اور عبداللہ ننگیال بھی شامل ہوں گے۔
یاد رہے کہ محسن داورڈ پی ٹی ایم کے بانیوں میں شامل ہیں گزشتہ انتخابات میں وہ اور ان کے ساتھی علی وزیر آزاد حثییت میں کامیاب ہو کر رکن قومی اسمبلی بنے تھے۔

 محسن داوڑ اور علی وزیر قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔ (فوٹو: اے پی پی)

نئی جماعت کا صوبائی سیاست پر اثر

صوبے کے سینئیر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ محسن داوڑ کے لیے خیبر پختونخواہ میں ایک نئی سیاسی جماعت کو کھڑا کرنا خاصا مشکل ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبہ پہلے ہی قوم پرست جماعتوں کا گڑھ ہے جہاں اے این پی، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اور پی ٹی ایم موجود ہیں۔ ’مجھے نہیں سمجھ آ رہی کہ محسن داوڑ نئی سیاسی جماعت بنا کر اب کیا نیا کر لیں گے۔‘
رحیم اللہ یوسف زئی کے مطابق نئی جماعت سے پی ٹی ایم اور اے این پی کو نقصان ضرور پہنچے گا اور شمالی وزیرستان سے ان کے لوگ ٹوٹ کر نئی جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں تاہم نئی جماعت ایک بڑی سیاسی قوت بننے میں مشکلات کا شکار رہے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم کو گزشتہ انتخابات میں بھی بڑی عوامی سپورٹ حاصل نہیں تھی اور قبائلی علاقوں کی 12 قومی اسمبلی کی سیٹوں میں سے صرف دو سیٹوں پر اسے کامیابی ملی تھی جبکہ صوبائی اسمبلی کی 16 میں سے صرف ایک نشت ملی تھی۔