نئے گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا کون ہیں؟

صدر مملکت عارف علوی نے گورنر بلوچستان امان اللہ یاسین زئی کا استعفیٰ منظور کرتے ہوئے ان کی جگہ پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سید ظہور احمد آغا کو نیا گورنر مقرر کردیا ہے۔
گورنر بلوچستان جسٹس ریٹائرڈ امان اللہ یاسین زئی نے بدھ کو اپنے منصب سے استعفا دیا تھا۔
صدر مملکت عارف علوی کو  بھیجے گئے استعفے میں امان اللہ یاسین زئی نے لکھا کہ’ میں گورنر بلوچستان کے عہدے سے آج سات جولائی 2021 کو مستعفی ہو رہا ہوں۔‘
مزید پڑھیں
خیال  رہے وزیراعظم عمران خان نے دو ماہ قبل دورہ کوئٹہ کے موقع پر گورنر بلوچستان جسٹس ریٹائرڈ امان اللہ خان یاسین زئی کو خط لکھ گورنر کا عہدہ چھوڑنے کا کہا تھا۔
وزیراعظم عمران خان کی جانب سے گورنر بلوچستان کو لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ سیاسی حالات کا تقاضا ہے کہ کسی نئے شخص کو گورنر مقرر کیا جائے۔ تاہم اس وقت امان اللہ یاسین زئی نے مستعفی ہونے سے انکار کردیا تھا۔
پی ٹی آئی کی مرکزی حکومت نے اکتوبر 2018ء میں محمد خان اچکزئی کے استعفے کے بعد امان اللہ یاسین زئی کو گورنربلوچستان  مقررکیا تھا۔امان اللہ یاسین زئی بلوچستان کے چیف جسٹس بھی رہ چکے ہیں۔ اگست 2009 میں انہیں پی سی او کے تحت حلف اٹھانے پر چیف جسٹس کے عہدے سے برطرف کیا گیا تھا۔
نئے گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا کون؟
ظہور آغا نے ابتدائی تعلیم کوئٹہ سے حاصل کی ۔ بلوچستان یونیورسٹی سے انگلش لٹریچر میں ماسٹر کیا۔
سید ظہور احمد آغا بنیادی طور پر ایک تاجر ہیں۔ وہ کئی آٹا ملوں کے مالک اور کوئٹہ چیمبر آف کامرس کے رکن بھی ہیں۔
آل پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے چئیرمین بھی رہ چکے ہیں۔
ان کا تعلق بلوچستان کے ضلع پشین سے ہے ۔ وہ گزشتہ تقریباً 15 سالوں سے پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ ہیں۔
تحریک انصاف کی بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی منورہ منیر نے بتایا کہ ظہور آغا پارٹی کے دیرینہ اور سرگرم کارکن ہیں۔ وہ پارٹی میں صوبائی نائب صدر سمیت مختلف اہم عہدوں پر کام کرچکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سید ظہور احمد آغا اس وقت پی ٹی آئی بلوچستان سینٹرل ریجن کے سینئر نائب صدر ہیں۔انہوں نے 2013ء کے عام انتخابات میں کوئٹہ سے بلوچستان اسمبلی کی نشست کے لیے انتخاب بھی لڑا تاہم کامیاب نہ ہوسکے۔

پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق قاسم سوری نے ہی وزیراعظم عمران خان کو انہیں گورنر بنانے پر قائل کیا ہے۔( فوٹو: ظہور آغا فیس بک)
مارچ 2021 کے سینیٹ انتخابات میں ظہور آغا کو پارٹی ٹکٹ جاری کیا گیا تاہم بعد ازاں پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کی ہدایت پر آزاد امیدوار محمد عبدالقادر کے حق میں دستبردار ہوگئے۔
پارٹی کے سرگرم کارکن کو آزاد امیدوار کے حق میں دستبردار کرانے پر پی ٹی آئی اور عمران خان کو تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ظہور آغا کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کے قریبی دوست ہیں۔
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق قاسم سوری نے ہی وزیراعظم عمران خان کو انہیں گورنر بنانے پر قائل کیا ہے۔
سید ظہور احمد آغا نے گورنر مقرر ہونے کے بعد کہا ہے کہ وہ بلوچستان کے مسائل حل کرنے کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کے اعتماد پر پور اترنے کی بھر پور کوشش کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ ناراض بلوچ رہنماؤں سے بات چیت کرکے انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کی کوششوں کو آگے بڑھائیں گے۔ عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے بھی بلوچستان کے مسئلے کو بات چیت اور سیاسی طریقے سے حل کرنے پر زور دیا کرتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ گورنر کا منصب صوبے اور وفاق کے درمیان پل کی مانند ہے ۔کوشش ہوگی کہ مرکز اور صوبے کے درمیان بہترین کوآرڈنیشن ہو، صوبے میں تعلیم کی بہتری کے لئے میرٹ کے نفاذ اور اس پر عمل درآمد کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔