ناراض بلوچوں سے بات، ’جو انڈیا سے رابطے میں رہے ان کے لیے اصول مختلف ہوگا‘

پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے بلوچستان میں ناراض قوم پرستوں سے بات چیت کے لیے باقاعدہ منصوبے پر کام شروع ہو گیا ہے تاہم جو لوگ انڈیا کے ساتھ رابطوں اور دہشت گردی میں ملوث رہے ان کے لیے اصول مختلف ہوگا۔
منگل کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے اقدام کے بعد بلوچستان جلد امن کا گہوارہ بنے گا۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان میں جس طرح سے وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ ناراض بلوچ قوم پرست جو براہ راست انڈیا کے ساتھ رابطے میں نہیں تھے اور اپنے سیاسی مسائل کی وجہ سے ناراض تھے ان سے بات چیت کے لیے ایک باقاعدہ منصوبے پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔‘
مزید پڑھیں
انہوں نے کہا کہ ’وہ بلوچ جو انڈیا کے ساتھ براہ راست رابطے میں تھے اور دہشت گردی میں ملوث تھے ظاہر ہے ان کے لیے تو اصول مختلف ہوگا۔‘
خیال رہے کہ پیر کو وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ’وہ بلوچستان میں مزاحمت کرنے والے عسکریت پسندوں سے بات کرنے کا سوچ رہے ہیں۔‘
گوادر میں بلوچستان کے عمائدین کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’جو پاکستان کا سوچے گا وہ بلوچستان کا ضرور سوچے گا۔‘
عمران خان کے مطابق ’ماضی میں حکمرانوں نے بلوچستان توجہ نہیں دی۔‘
عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ’حکومت میں آنے سے قبل سوچ رکھا تھا کہ بلوچستان  پر توجہ دیں گے تاکہ وہاں کے لوگ بھی یہ سمجھیں کہ یہ پاکستان ہمارا بھی ہے۔‘
ادھر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے منگل کو راولپنڈی کے جنرل ہیڈکوارٹرز میں بلوچستان سے متعلق ورکشاپ کے شرکا سے ملاقات کی۔
آئی ایس پی آر سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ محنت سے حاصل کیے گئے امن کے فوائد سے لطف اندوز ہوا جائے اور پائیدار استحکام کے حصول کے لیے معاشی اور معاشرتی ترقی کو تیز کیا جائے۔

گوادر میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’جو پاکستان کا سوچے گا وہ بلوچستان کا ضرور سوچے گا۔‘ فوٹو: ویڈیو گریب
اندرون اور بیرون ملک چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہوئے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ‘دھمکیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جامع قومی جواب کی ضرورت ہوتی ہے۔’
بلوچستان سے متعلق ہونے والی ورک شاپ کا مقصد بلوچستان کی مستقبل کی لیڈرشپ کو اہم قومی اور صوبائی امور سمجھنے اور ہم آہنگ ردعمل کو آگے بڑھانا ہے۔
اس ورکشاپ میں پارلیمانی ارکان، بیوروکریٹس، نوجوانوں، میڈیا اور شعبہ تعلیم سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے حصہ لیا۔