ناشتے پرسبسڈی، فن لینڈ کی وزیراعظم کارقم واپسی کرنیکا اعلان

فِن لينڈ کی وزيراعظم نے ناشتے کیلئے ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے سبسڈی حاصل کی۔ سینا میرین نے 14 ہزار ڈالر قومی خزانے میں جمع کرانے کا اعلان کردیا۔

فن لينڈ کی وزيراعظم نے ميل (کھانا) الاؤنس کی مد ميں ڈيڑھ سال تک ناشتے کا خرچ سرکاری خزانے سے ليا، جس پر ان کے خلاف کافی شور مچا۔

پوليس نے تفتيش کی اور ثابت ہوگیا کہ سینا میرین نے ٹيکس دہندگان کے پيسوں سے اپنے خاندان کیلئے سبسڈی کی سہولت حاصل کی۔

سینا میرین کے بارے میں گزشتہ ماہ ایک مقامی اخبار میں خبر چھپی تھی کہ وہ اپنے اہلخانہ کے ناشتے کیلئے حکومت سے فی ماہ 300 یورو یا 365 ڈالر کا مطالبہ کررہی ہیں جبکہ وہ سرکاری رہائش گاہ کیسارینتا میں رہتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سرکاری خزانے سے ناشتہ، فن لینڈ کی وزیراعظم کیخلاف تحقیقات

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق 35 سالہ وزیراعظم کا مؤقف تھا کہ یہ مراعات ان سے پہلے کے حکمرانوں کو بھی ملتی رہی ہیں۔ تاہم قانونی ماہرین کے مطابق وزیراعظم کے ناشتے کی شہریوں کی ٹیکس کی رقم سے ادائیگی فن لینڈ کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔

فن لینڈ کی وزیراعظم نے ناشتے پر سبسڈی کی مد میں لی گئی رقم سرکاری خزانے میں جمع کرانے کا اعلان کردیا، جس تقریباً 14 ہزار ڈالر بنتی ہے۔

فن لینڈ کی 35 سالہ سينا ميرين دنيا کی سب سے کم عمر وزيراعظم ہيں۔

متعلقہ خبریں