نرسری سے یونیورسٹی تک تمام تعلیمی ادارے بند رہینگے،مراد

جب تک عوام تعاون نہیں کرینگے کہ لاک ڈاؤن کا فائدہ نہیں ہوگا

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ صورت حال بہتر ہونے تک نرسری سے یونی ورسٹی تک تمام تعلیمی ادارے 2 ہفتے کیلئے بند رہیں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کردیا کہ ہم کسی علاقے میں کوئی فرق نہیں کرینگے کہ اتنے فیصد علاقوں میں شرح کم ہونے پر تعلیمی ادارے کھول دیئے جائیں، ،ہم نہیں چاہتے کہ پنجاب جیسی صورت حال سندھ میں بھی بننے۔ کراچی سمیت سندھ بھر میں سخت ایس او پیز نافذ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کل بروز پیر 24 مئی سے کراچی سمیت سندھ بھر میں سخت ایس او پیز نافذ کر رہے ہیں۔ عوام جب تک ساتھ نہیں دے گی، لاک ڈاأن کا فائدہ نہیں ہوگا۔ سینما ، پارک، درگاہیں، مزارات، بیوٹی پارلرز سمیت دیگر اہم پبلک مقامات 2 ہفتے تک بند رہیں گے۔ انڈرو اور آؤٹ دور ڈائنگ پر پابندی ہوگی۔ دکانیں صرف شام 6 بجے تک ہی کھلی رہیں گی۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ آج کی پریس کانفرنس کا یہ ہی مقصد تھا کہ چیزوں کا واضح کردیا جائے۔ پابندی لگانے کا فیصلہ عید الفطر کے بعد بڑھتے کیسز کے تناظر میں کیا ۔ اس سال کے اعداد و شمار سامنے رکھ کر حکمت عملی بنائی ہے۔ کراچی میں کرونا کیسز کی شرح 13.8 فیصد ہے۔

ویکسین سے متعلق وزیر صحت سندھ نے کہا کہ ویکسین سے متعلق افواہوں پر دھیان نہ دیں۔ صوبے بھر میں 234 ہم موبائل سینٹر اور ہیلپ لائن بھی لا رہے ہیں، ان لوگوں کیلئے جو ویکسینیشن سینٹر نہیں جا سکتے ہیں۔ لوگوں کی گھروں پر بھی ویکسین کا بندوبست کر رہے ہیں۔ دور دیہات اور گاؤں میں موجود افراد کیلئے بھی ویکسین کا انتظام کیا جائے گا، تاہم مناسب تعداد میں ادویات کی دستیابی کا انتظار ہے۔ ویکسین سینٹر قائم کیے گئے ہیں، جب کہ مزید سینٹرز کیلئے بھی کام کیا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ کرونا کی پہلی لہر پر ہم نے کامیابی سے قابو پایا۔ اب کرونا کی تیسری لہر سے نمٹ رہے ہیں۔ ہم نے مزید سختی کرنی ہے۔ ایس او پیز میں نرمی نہیں کرسکتے۔ اسپتالوں میں دستیاب بیڈز تیزی کے ساتھ بھر رہے ہیں۔ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر جرمانے کیے جائیں گے۔ ٹرانسپورٹ 50 فیصد مسافروں کیساتھ چلے گی۔

اس موقع پر انہوں نے پانی کے تقسیم کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ اسمبلی نے اس حوالے سے قرار داد منظور کی ہے۔ حکومت اس معاملے پر اچھے طریقے سے کردار ادا کرسکتی ہے۔ پانی کی تقسیم 1991 کے معاہدے کے تحت ہونی چاہیئے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایک صوبے کو سرسبز اور دوسرے کو بنجر بنا دیا جائے، اس کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔

متعلقہ خبریں