نریندرمودی کی کشمیر پالیسی ناکام ہوچکی ہے،شاہ محمود

کشمیریوں نے اس پالیسی کو یکطرفہ طور پر مسترد کردیا ہے

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ نریندر مودی کی حکومت کی کشمیر پالیسی ناکام ہوچکی ہے اور کشمیریوں نے اس پالیسی کو یکطرفہ طور پر مسترد کردیا ہے۔

جمعرات کو سماء کے پروگرام نیا دن میں بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کو سمجھنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال درست نہیں ہے۔ کشمیر میں بہتری کے لیے بھارت کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ وزیراعظم نے دہرایا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کے ساتھ اخلاقی طور پر ،سیاسی طور پر ،سفارتی طور پر کل بھی کھڑا تھا اور آج بھی کھڑا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی جیو اسٹریٹیجک پوزیشن کو دیکھتے ہوئے عالمی ممالک کے پاکستان کے ساتھ اچھے اور باہمی تعلقات فطری عمل ہے۔ پاکستان کو ماضی میں اس انداز میں اجاگر نہیں کرسکے جس انداز میں کرنا چاہئے تھا۔ پاکستان کا نیا بیانیہ ہے کہ جیو اکنامکس پر توجہ مرکوز دی جائے۔ پاکستان کو معاشی سرگرمیوں اور تجارت کا حب بنانا چاہ رہے ہیں۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان کا اکنامک کوریڈو اور گوادر پورٹ اہم کردار ادا کرے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی منڈیاں بھی تلاش کریں اور وسطی ایشیائی ممالک کے لیے حکومت پاکستان نے وزیراعظم عمران خان کی رہنمائی میں نیا ویژن بنایا ہے۔ اِس کو ویژن سینٹرل ایشین ریپلک کا نام دیا گیا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے وضاحت دی کہ اس ویژن کے 2 ستون ہیں۔پہلے ستون میں یہ دیکھنا ہے کہ کس طرح علاقائی ممالک سے رابطے مضبوط بنائے جائیں۔ دوسرا ستون ہے کہ کس طرح امن کے ذریعے ان ممالک تک رسائی حاصل کریں۔ بنیادی امن کے حصول کے لیے پہلی توجہ افغانستان پر مرکوز کی ہوئی ہے۔

افغانستان سے متعلق وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے مزید بتایا کہ چین ، افغانستان اور پاکستان مل کر کوشش کررہے ہیں کہ افغانستان کے امن کے لیے کیا کرسکتے ہیں۔اس مقصد کے لیے کاوش اور جستجو جاری رہے گی۔ چین افغانستان کا اہم پڑوسی ہے  اور افغانستان میں امن کی بحالی اولین ترجیح اور خواہش ہے۔ افغانستان میں انفرا اسٹریکچر کی تعمیر ضروری ہے جس کے لیے چین کی مالی وسائل اور ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ چین اور پاکستان مل کر افغانستان کی بہتری کے لیے جامع منصوبہ بناسکتےہیں۔ افغانستان سمیت خطے کی خوشحالی اور ترقی بنیادی جُز ہے۔

شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ تاجک صدرسےتجارت اورافغانستان کی صورتحال پر گفتگوہوئی۔ پاکستان اور تاجکستان کا نکتہ نظرایک ہے جو کہ اچھی پیش رفت ہے۔ جولائی میں ازبکستان سے بھی رابطہ ہوگا اور ایس سی او کی تیاری کے لیے دوشبنے کا دورہ بھی کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں