نسل پرستانہ لفظ استعمال کرنے پر دوست کی ناک توڑ دی تھی: باراک اوباما

بدھ 24 فروری 2021 9:50

اوباما نے کہا نے نسل پرستانہ الفاط کا استعمال ایک انسان کی دوسرے پر برتری دکھاتا ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

امریکہ کے سابق صدر بارک اباما نے انکشاف کیا ہے کہ سکول دور میں انہوں نے اپنے ایک ساتھی کی نسلی پرستانہ لفظ استعمال کرنے پر ناک توڑ دی تھی۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ’دا ہل کے مطابق امریکہ کے 44 ویں صدر نے یہ واقعہ سپوٹیفائی کی ایک قسط کے دوران پروس سپرنگسٹین کے ساتھ بات کرتے ہوئے سنایا تھا۔ ‘سنو جب میں سکول میں تھا میرا ایک دوست تھا۔ ہم ساتھ باسکٹ بال کھیلتے تھے۔’
مزید پڑھیں
انہوں نے مزید بتایا کہ ایک بار دونوں کی لڑائی ہوئی تو ان کے دوست نے انہیں ایک بُرا لفظ بولا جس کا شاید انہیں اس وقت مطلب بھی نہ معلوم ہو۔
‘اسے جو معلوم تھا وہ یہ تھا کہ میں تمہیں یہ کہہ کر تکلیف پہنچا سکتا ہوں۔’ سابق صدر ابامہ نے ہنستے ہوئے کہا کہ اس پر انہوں نے اس کی ناک پر مکا مارا۔ ‘اور ہم لاکر روم میں تھے۔ میں نے اسے کہا کہ مجھے آئندہ ایسا کچھ نہیں کہنا۔’
اوباما نے کہا نے نسل پرستانہ الفاط کا استعمال ایک انسان کی دوسرے پر برتری دکھاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس طرح سے پھر نسل پرستی کی بنیاد پر چوری، جنسی زیادتی، دھوکہ اور قتل عام ہوجاتا ہے۔
اوباما نے اپنے دور اقتدار کے دوران اور اس کے بعد بھی اکثر امریکی معاشرے پر نسل پرستی سے متعلق بات کی ہے۔
2015 میں ہونے والے ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ میں اب تک نسل پرستی کا خاتمہ نہیں ہوا ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ میں گذشتہ سال جارج فلوئڈ نامی ایک غیر مسلح سیاہ فام شخص کی پولیس کے ہلاکت کے بعد دنیا بھر میں ‘بلیک لائیوز میٹر’ کی مہم کا آغاز ہوا۔ اس مہم کے باوجود امریکہ میں دیگر سیاہ فام افراد کی ہلاکت کے واقعات پیش آئے، جس سے ملک میں نسل پرستی ختم نہ ہونے پر ایک بار پھر بحث چھڑ گئی۔