’نواز شریف لندن سے حکومت کو گھر میں گھس کر مار رہے ہیں‘

بدھ 14 جولائی 2021 14:50

مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم عمران خان کو کٹھ پتلی کے طور پر یاد رکھا جائے گا‘ (فوٹو: اے ایف پی)

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کو صوبہ بنانے کی منصوبہ بندی کر چکے ہیں لیکن کشمیری ایسا نہیں ہونے دیں گے۔
بدھ کو پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے علاقے ہجیرہ میں جلسے سے خطاب میں مریم نواز نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’تم نے خود ثابت کر دیا ہے کہ تم عوام کی نہیں، سیلیکٹرز کی چوائس ہو اور نواز شریف 2018 کے الیکشن میں چوائس کیوں نہیں تھے؟‘
انہوں نے کہا کہ عمران خان سیلکٹرز کے اشارے پر لٹو کی طرح گھومتے ہیں جبکہ نواز شریف وہ شیر تھے کہ جب ان پر مقدمات بنے اور استعفیٰ مانگا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ’اوور مائے ڈیڈ باڈی۔‘
مزید پڑھیں
مریم نواز نے پچھلے کچھ عرصے میں ہونے والے ضمنی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف مجبوری کی وجہ سے لندن میں بیٹھے ہیں لیکن آج بھی گھر میں گھس کر انہیں مارتے ہیں۔
انہوں نے انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کی قانونی حیثیت تبدیل کیے جانے کا الزام عمران خان پر لگاتے ہوئے کہا کہ ’73 سال میں پہلی بار انڈیا کو اتنی جرات ہوئی۔‘
ن لیگ کی نائب صدر نے جلسے کے شرکا سے پوچھا کہ اگر نواز شریف کی حکومت ہوتی تو انڈیا ایسا کر سکتا تھا؟ جس پر لوگوں کی جانب سے نہیں میں جواب دیا گیا۔
مریم نواز نے وزیراعظم کو جھکنے اور ڈرنے کا طعنہ دیا اور کہا کہ ’22 سالہ جدوجہد کو ایک کرسی کے لیے برباد کرنا گھاٹے کا سودا ہے۔‘
ن لیگی رہنما نے کہا کہ ’لیڈر کرسی پر بیٹھنے کے لیے نہیں عوام کے دلوں میں بسنے کے لیے ہوتے ہیں۔‘
 ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو ایک کٹھ پتلی کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
انہوں نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’تمھارے راز اُن کے پاس ہیں اور اُن کے تمھارے پاس، اسی سے سازش بے نقاب ہوتی ہے۔‘
انہوں نے کشمیریوں ووٹرز کو شیر کے انتخابی نشان کو ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر بلے کو ووٹ دیا تو وہ کشمیر کو صوبہ بنانے پر مہر ہو گی۔
ن لیگ کی نائب صدر نے خبردار کیا کہ ’ایک بار ایسا ہو گیا تو پھر رونے دھونے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔‘
مریم نواز نے شرکا سے کہا کہ اس کو روکنا ہے تو ابھی روک دو، کوہالہ پل کے اس طرف ہی روک دو۔
انہوں نے لوگوں سے عہد لیتے ہوئے کہا کہ جو سونامی پاکستان میں آیا ہے، اسے کشمیر میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔