نورمقدم قتل کیس:شریک ملزمان کی ضمانت کی درخواست

فوٹو: ٹوئٹر

سابق سفیر کی بیٹی نور مقدم کے قتل میں ملوث ملزمان کی درخواست ضمانت پر سماعت 4 اگست تک ملتوی کردی۔

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ سیشن کورٹ میں نور مقدم قتل کیس میں شریک ملزمان ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی۔ جج نے استفسار اس کیس میں مقدمہ کاتفتیشی افسرکون ہے؟ جس پر سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ تفتیشی افسر لاہور میں ہے ویڈیو فرانزک کرانےگئے ہیں۔

ڈسٹرکٹ سیشن کورٹ میں جج نے استفسار کیا کہ مدعی مقدمہ کا وکیل کدھر ہے؟ جس پر مدعی شوکت علی مقدم عدالت کو بتایا کہ مجھے وکیل کرنا پیر تک کےلیے مہلت دی جائے۔

جج نے استفسار کہ آپ آج وکیل کرکے وکالت نامہ جمع کرائیں تا کہ ریکارڈ پر لایا جاسکے، جس کے بعد عدالت نے سماعت 4 اگست تک ملتوی کردی۔

دوسری جانب ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد افضال کوثر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نور مقدم قتل کیس کی تحقیقات میں پولیس پر کوئی دباؤ ہے نہیں لیا جائے گا۔

افضال کوثر نے بتایا کہ واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیجز کو پرائیویسی کے تحت سامنے نہیں لارہے ہیں، کیس کی تحقیقات قابل افسران پر مشتمل ٹیم کررہی ہے۔

اس سےقبل نور مقدم کے قاتل کو سزا اور عدالت میں مقدمہ لڑنے کےلیے شروع کی مہم میں عطیات جمع ہونے کے بعد فنڈنگ روک دی گئی ہے۔

گزشتہ روز نور مقدم کو انصاف دلانے کی غرض سے ’گو فنڈمی‘ مہم میں 19 گھنٹوں کے دوران حیرت انگیز طور پر 36 ہزار ڈالرز سے زائد رقم جمع کرلی گئی تھی۔

نور مقدم کے ایک دوست کی جانب سے اس مہم کا باقائدہ آغاز کیا گیا تھا جس میں انہوں نے اپیل کی تھی کہ ظاہر جعفر ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھتا ہے، اس کےوالدین کے پاس شہر کے بہترین وکلاء اور قانونی ماہرین کی مدد حاصل کرلی ہے اور ان کے پاس وسائل ہیں کہ وہ اس جنگ کو بلا مقابلہ لڑسکیں۔ نور کے دوست کی حیثیت سے اس مہم کا آغاز کر رہے ہیں تاکہ والدین اپنی بیٹی کو انصاف دلاسکیں۔

نور مقدم قتل کیس:عدالتی مہم کیلیے19گھنٹوں میں 36ہزار ڈالرز جمع

اس مقدمے میں انداز ایک لاکھ 20 ہزار ڈالرز کا خرچ لگنے کی امید کی جارہی ہے جبکہ اب تک 36 ہزار 354 ڈالرز جمع کرلیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد کے علاقے ایف سیون میں سابق سفیر کی بیٹی نور مقدم کو عید الاضحیٰ سے ایک دن قبل انتہائی سفاک طریقے سے قتل کردیا گیا تھا، پولیس نے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو گرفتار کرلیا تھا جبکہ اس کے والدین کو بھی حراست میں لیا جاچکا ہے۔

ملزم کے والدین اور ملازمین کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھجوا دیا گیا ہے۔ قتل کا مقدمہ تھانہ کوہسار پولیس اسٹیشن میں درج ہے۔

متعلقہ خبریں