نورمقدم کاقتل:ملزم کانام ای سی ایل میں شامل کرنےکی ہدایت

noor-mukadam

سابق سفارت کار کی بيٹی نور مقدم کے قتل کیس میں آئی جی اسلام آباد نے ملزم ظاہر ذاکر کا نام اے سی ایل میں شامل کرنے کی درخواست کردی ہے۔

آئی جی اسلام آباد کی مقتولہ نورمقدم کی تفتیشی ٹیم سے میٹنگ ہوئی۔ ملاقات ميں ڈی آئی جی آپریشنز، ایس ایس پی آپریشنز، ایس ایس پی انوسٹی گیشن، اے ایس پی کوہسار، ایس ایچ او کوہسار اور تفتیشی ٹیم کے دیگر ممبران بھی شامل تھے۔

آئی جی اسلام آباد نے انگلینڈ اور امریکا سے کرمنل ریکارڈ کے لیے متعلقہ اداروں سے رابطے اور وقوعہ سے حاصل کیے گئے تمام شواہد کی فرانزک کرانے کی بھی ہدایت کی۔

آئی جی اسلام آباد نے تھیراپی ورکس سے بھی ملاقات کرنے کی ہدایت کی۔

انکا کہنا تھا کہ مقدمے کو ٹھوس شواہد کی روشنی میں جلد از جلد یکسو کیا جائے۔ تفتیش میں انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کیا جائے تاکہ ملزم کو سخت سے سخت سزا دلائی جائے۔

نورمقدم کےقتل کی تحقیقات جاری،پولیس کےاہم انکشافات

نورمقدم کا قتل

گزشتہ روز ایس ایس پی انویسٹی گیشن اسلام آباد عطاء الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ سابق سفارت کار کی بیٹی کا قتل انتہائی سفاکانہ عمل ہے اور پولیس کی پوری کوشش ہے کہ شواہد ضائع نہ ہوں۔

انویسٹی گیشن سربراہ کا کہنا ہے کہ سفارت کار کی بیٹی نور مقدم کو قتل کرنے کا واقعہ چاند رات کو ہوا، ملزم کو پولیس نے گرفتار کرکے پستول برآمد کرلیا تھا۔ ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے۔

عطاء الرحمان نے کہا کہ متاثرہ خاندان سے آئی جی اسلام اباد نے ملاقات کی ہے اور انصاف کی فراہمی کا یقین دلایا ہے، گرفتار کیے گئے ملزم کا کرمنل ريکارڈ ملک بھر ميں چيک کيا جارہا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ملزم سے برآمد ہونے والی پستول میں ایک گولی پھنسی ہوئی تھی۔

پولیس کے مطابق مقتولہ کو پہلے ذبح کیا اور بعدازاں سر تن سے جدا کردیا۔ مقتولہ کچھ عرصے سے ملزم ظاہر کے ساتھ رہ رہی تھی۔ پولیس نے ملزم کے خلاف تھانہ کوہسار میں خاتون کے قتل کا مقدمہ درج کرکے لاش پمز اسپتال منتقل کردی تھی۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق مقتولہ کا سر جسم سے الگ تھا۔

متعلقہ خبریں