’نیتن یاہو کی طویل حکمرانی کے خاتمے کے لیے‘ اسرائیلی پارلیمنٹ میں ووٹنگ آج

اسرائیلی پارلیمنٹیرینز آج اتوار کو نئی اتحادی حکومت کی تشکیل اور وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے ارادے سے رائے شمای میں حصہ لیں گے۔
مزید پڑھیں
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اتوار کو اسرائیلی پارلیمنٹ ’نسیٹ‘ کا اجلاس مقامی وقت کے مطابق شام چار بجے منعقد ہوگا جس سے بینیٹ، لاپید اور نیتن یاہو ووٹنگ سے قبل خطاب کریں گے۔
رشوت، فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات کا سامنا کرنے والے نتن یاہو نے اسرائیلی سیاست کو نیا رخ دیا ہے۔
سنیچر کی رات دو ہزار کے قریب مظاہرین نتن یاہو کی ممکنہ روانگی کا جشن منانے کے لیے 71 سالہ وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ کے باہر جمع ہوئے۔
مظاہرے میں شریک اوفر روبنسکی نامی شخص نے بتایا کہ ’ہمارے لیے یہ ایک بڑی رات ہے اور کل بھی ایک بڑا دن ہوگا۔ میں تقریباً رونے والا ہوں۔ ہم (نتن یاہو کی روانگی) اس کے لیے پُرامن طریقے سے لڑے ہیں اور اب وہ دن آ گیا ہے۔‘
یاد رہے کہ تین جون کو حزب اختلاف کی آٹھ جماعتوں کے درمیان نئی حکومت تشکیل دینے کا معاہدہ طے پایا تھا۔

تین جون کو حزب اختلاف کی آٹھ جماعتوں کے درمیان نئی حکومت تشکیل دینے کا معاہدہ طے پایا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
معاہدے کے تحت یائر لاپید اور ان کے اتحادی  نفتالی بینٹ وزارت عظمی کے عہدے پر باری باری دو دو سال کی مدت کے لیے فائز رہیں گے۔ بینٹ پہلے دو سال جبکہ لاپید آخری دو سال کے لیے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالیں گے۔
تاریخی معاہدے میں ایک چھوٹی اسلامی جماعت دی یونائٹڈ عرب بھی شامل ہے جو مخلوط حکومت کی تشکیل کی حمایت کرنے والی پہلی عرب پارٹی ہوگی۔
تاہم اس معاہدے کو پارلیمنٹ سے منظور کرانے کی ضرورت تھی اسی لیے آج اتوار کو نئی حکومت کی تشکیل کے لیے ووٹنگ ہوگی۔
جمعے کو دائیں بازو کی یامینا پارٹی نے اعلان کیا تھا کہ معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں اور اسے اسرائیلی پارلیمنٹ ’نسیٹ‘ کے سیکرٹریٹ میں جمع کرایا گیا ہے جس کے بارے میں نفتالی بینیٹ کا کہنا ہے کہ اس سے ’سیاسی بحران‘ کا خاتمہ ہو جائے گا۔
بینیٹ کا کہنا تھا کہ ’ہم ایک ساتھ مل کر کام کریں گے اور مجھے یقین ہے کہ ہم کامیاب ہو جائیں گے۔‘

وزیراعظم نیتن یاہو نے نئی حکومت کے اتحاد کو اسرائیل کی ’تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ‘ قرار دیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
وزیراعظم نیتن یاہو نے اس نئی حکومت کے اتحاد کو اسرائیل کی ’تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ‘ قرار دیا ہے۔
اسرائیل کے صدر رووین ریولین نے پانچ مئی کو حزب اختلاف کے رہنما یائر لاپید کو نئی حکومت بنانے کی دعوت دی تھی۔
اس سے قبل وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کو مخلوط حکومت بنانے کے لیے 28 روز کی مہلت دی گئی تھی تاہم وہ حکومت بنانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔