نیشنل بنک کےصدرکوعہدےسےہٹانےکا سنگل بنچ کافیصلہ معطل

اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے نیشنل بینک کے صدر کوعہدے سے ہٹانے کا سنگل بنچ کا فیصلہ معطل کردیا ہے۔

کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عامر فاروق نے کی۔وزارت خزانہ اور نیشنل بینک نے الگ الگ انٹرا کورٹ اپیلیں دائرکی ہوئی تھیں۔

وزارت خزانہ کی جانب سے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان عدالت میں پیش ہوئے۔نیشل بینک کی جانب سے مخدوم علی خان عدالت میں پیش ہوئے۔

اٹارنی جنرل خالدجاوید خان نےبتایا کہ عارف عثمانی اور زبیر سومرو سنگل رکنی بنچ کے فیصلے سے متاثر ہوئے ہیں۔ نیشنل بینک کے صدرکے لئے اشتہار کی ضرورت نہیں تھی اور سنگل رکنی بنچ نے ٹھیک سے سنا ہی نہیں۔ اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ مخدوم علی خان کی موجودگی میں مجھے زیادہ دلائل دینے کی ضرورت نہیں ہوگی، مخدوم علی خان نے کہا کہ نیشنل بنک کے صدر اور چئیرمین اپنے عہدے کے اہل ہیں۔

جمعرات کو فیصلے کے بعد نیشنل بینک کے صدر عارف عثمانی اور چئیرمین زبیر سومرو کو عہدوں پر بحال کر دیا گیا ہے۔وفاق کی انٹرا کورٹ اپیل پر ڈویژن بنچ نے حکم جاری کیا ہے۔انٹراکورٹ اپیل پر فیصلے تک سنگل بنچ کا فیصلہ معطل رہے گا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے صدر نیشنل بینک کی تعیناتی کے خلاف شہری کی درخواست پر 2جون کو محفوظ کیا گیا فیصلہ پچھلے ہفتے سنایا تھا۔

درخواست میں عارف عثمانی کی بطور صدر 12 جنوری 2019 کو تعیناتی کے نوٹیفکیشن کو شہری عبدالطیف قریشی نےچیلنج کیا تھا۔ درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ طارق عثمانی کی تعیناتی ٹرانسپرنسی کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہوئی۔

درخواست گزار کے مطابق اسٹیٹ بینک کی پروفیشنل بینکرز کی لسٹ میں عارف عثمانی کا نام شامل نہیں اور عارف عثمانی کا نام پروفیشنل بینکرز کی لسٹ میں نہ ہونے کے باوجود تعیناتی کردی گئی۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ عارف عثمانی بی ایس سی فزکس ہیں۔

متعلقہ خبریں