نیوزی لینڈ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن بن گیا، بھارتی شیر ڈھیر

  نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے ساؤتھمپٹن کے باؤل روزگراؤنڈ پر خراب موسم کے باوجود آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل  میچ میں بھارت کو 8 وکٹوں سے شکست دے کر اولین عالمی ٹیسٹ چیمپئن کا اعزاز حاصل کر لیا۔

اس کامیابی میں نیوزی لینڈ کے کھلاڑیوں  کے انہماک اور جیت کے جذبے کا نمایاں کردار رہا کیونکہ خراب موسم کی وجہ سے ڈھائی دن کا کھیل ضائع ہوگیا تھا۔ خراب موسم کی وجہ سے پہلے دن سے ہی ڈرا کے خدشات منڈلانے شروع ہوگئے تھے۔

بارش کی وجہ سے پہلے دن ٹاس کی نوبت بھی نہیں آئی تھی۔  بارش اور خراب موسم کی پیشگوئی کی سبب چھ روز میں بھی میچ کا فیصلہ ہونے کے امکانات دکھائی نہیں دیتے تھے لیکن نیوزی لینڈ کے بولرز کی  بہترین کار کردگی نے ٹیسٹ کو تاریخی اور یادگار بنا دیا۔

پورے میچ کے دوران ڈرامائی موڑآتے رہے اور میچ وقفے وقفے سے سنسنی خیز صورت حال اختیار کرتا رہا۔ اس لو اسکورنگ میچ میں نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے کوہلی الیون کو کھیل کے تمام شعبوں میں آؤٹ کلاس کر دیا۔

بھارت کی بیٹنگ لائن  برق رفتار کیوی بولرز کے سامنے زیادہ مزاحمت نہیں کر سکی۔   انگلش سرزمین پر 1975 اور مجموعی طور پر 2005 میں آسٹریلوی ٹیسٹ سیریز کے بعد  یہ پہلا ٹیسٹ میچ تھا جو چھ روز پر محیط تھا۔ انگلینڈ میں بارش کے امکانات کو مدنظررکھتے ہوئے آئی سی سی نے ایک اضافی دن رکھا تھا تاکہ اسے ضائغ ہونے والے  وقت کو پورا کرنے کیلئے استعمال کیا جا سکے۔

نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولمیسن نے ٹاس جیت کر بھارت کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی کیونکہ وہ بارش زدہ وکٹ کا اندازہ  لگانا چاہتے تھے۔  بھارت کے اوپنرز روہت شرما اور شبمان گل نے انتہائی پر اعتماد اننگزکا آغازکیا اور پہلی وکٹ کی  شراکت میں 62 رنز بنائے۔

روہت شرما 34 کے ذاتی اسکور پر جیمیسن کا شکار بن گئے۔ ایک رنز کے اضافے پر شبمان گل  بھی ویگنر کو اپنی وکٹ دے بیٹھے۔ 88 رنز پر پوجارا (8) رنز بولٹ کا شکارہوگئے۔

چوتھی وکٹ کی شراکت میں کپتان کوہلی اور نائب کپتان ریہانے نے 61 قیمتی رنز بنا کر بھارت کی ڈولتی کشتی کو سہارا دیا لیکن طویل قامت فاسٹ بولر جیمیسن نے کوہلی کو 44 کے ذاتی اسکور پر پویلین کی راہ دکھا دی۔

ریہانے 49  ایشون 22 جدیجا 15 رنز کے ساتھ نمایاں رہے اور پوریٹیم کی بساط 217 پر لپٹ گئی۔  جیمیسن نے 31رنز کے عوض پانچ کھلاڑیوں کو آوٹ کیا جبکہ بولٹ اور ویگنر کو دودو اور ساؤتھی کو ایک وکٹ ملی۔

 جواب میں نیوزی لینڈ کے اوپنرز ٹام لیتھم اور ڈیون کونوے نے  بھارتی بولرز کا پر اعتماد سامنا کرتے ہوئے 70 رنز کا اسٹارٹ دیا۔ بھارت کو پہلی کامیابی  ایشون نے لیتھم (30) رنز کو آوٹ کر کے دلوائی۔

کپتان کین ولیمسن وکٹ پر کونوے کا ساتھ دینے کیلئے آئے تو انہوں نے بہت زیادہ محتاطانداز اختیار کیا۔ دڈونوں نے  ٹیم کا اسکور 117 پر پہنچایا تو کونوے 54 کے اسکور پر ایشانت شرما کا شکار بن گئے۔

ولمیسن کی محتاط بیٹنگ کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا تھا کہ انہوں نے اپنی ابتدائی 100 گیندوں پر صرف 15 رنز بنائے تھے جو ان کے ٹیسٹ کیریئر میں پہلی  100 گیندوں پر کم ترین اسکور ہے تاہم  وہ ایک اینڈ  کومضبوطی سے سنبھالے ہوئے تھے۔

تجربہ کار بلے باز راس ٹیلر زیادہ دیر ولمیسن کا ساتھ نہ دے سکے اور 11 کے ذاتی اسکور پر  محمد شامی کووکٹ دے بیٹھیاس وقت نیوزی لینڈ نے 117 رنز بنائے تھے۔ شامی نیوزی لینڈ کے بلے بازوں کیلئے اپنی سوئنگ گیندوں سے مشکلات پیدا کررہے تھے۔

اسکور 134 پر پہنچا تو بھارت کو اوپر تلے دو کامیابیاں مل گئیں۔ شرما نے ہنری نکولس اور شامی نے بی جے واٹلنگ کو آؤٹ کر دیا۔ نیوزی لینڈ کی نصف ٹیم پویلین پہنچ چکی تھی اس مرحلے پر بھارتی کھلاڑیوں کے حوصلے بلند تھے  اور انہیں پہلی اننگز میں سبقت کی امید نظر آنے لگی تھی لیکن  پراعتماد کیوی کپتان کین ولیمسن ان کی راہ میں آہنی دیوار بنے ہوئے تھے جن کواپنی ٹیل انڈرز کا بھرپور ساتھ ملا۔

کین ولیمسن  49  گرینڈ ہوم 13‘کائل جیمیسن 21 ٹم ساؤتھی 30 رنزکی مدد سے اسکور 249 تک پہنچانے میں کامیاب ہوئے۔  نیوزی لینڈ کو بھارت پر 32 قیمتی رنزکی برتری حاصل   ہو گئی۔ بھارت کے محمد شامی نے چار اور ایشانت نے تین وکٹیں لیں۔

دوسری اننگزمیں بھارتی اننگز کا آغاز پہلی اننگز کی طرح پر اعتماد نہیں تھا۔ جب اسکور بورڈ پر 24 رنز تھے تو کیوی بولر ٹم ساؤتھی نے شبمان گل  (8) رنز کا چراغ گل کر دیا۔  اسک۔ بعد شرما بھی 30 نز پر ساؤتھی کا شکار بن گئے۔

بھارت کے51رنز پر دو کھلاڑی پویلین چلے گئے تھے۔ ان حالات میں ایک بار پھر خراب موسم نے  مداخلت کر دی اور  میچ چھٹے دن میں چلاگیا۔ اس وقت بھارت کا اسکور 64 رنز دوکھلاڑی آؤٹ تھا۔ چھٹے دن کے کھیل کا آغاز ہوا تو یہ یقینی دکھائی دیتا تھا کہ میچ بے نتیجہ رہے گا لیکن کیوی بولرز نے تباہ کن کارکردگی نے بھارتی بلے بازوں کو ڈھیر کر دیا جو ان کی سوئنگ کرتی نپی تلی گیندوں کے سامنے پریشان  رہے اور وکٹ پر زیادہ دیر نہ ٹھہر سکے۔ ریشابھ پنت 41 رنزکے سوا کوئی بھی بھارتی بلے باز جیمیسن ساؤتھی بولٹ اور ویگنر کے سامنے زیادہ دیر ٹک کر نہ کھیل سکا۔

پوجارا 15کوہلی13ریہانے 15جدیجا16 اور محمد شامی  13رنز بنا سکے، بھارتی ٹیم 170 پر ڈھیر ہوگئی۔ساؤتھی نے چار بولٹ نے تین اور جیمیسن نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

نیوزی لینڈ کو میچ جیتنے کیلئے 139 رنز کا ہدف ملا تھا ۔ وکٹ کی حالت دیکھتے ہوئے 53 اوورزمیں  اس ہدف کو  حاصل کرنا کوئی  آسان کام نہیں تھا کیونکہ پہلے کی تین اننگز میں بالترتیب 2.35, 2.5 اور 2.32 رنز فی اوور کی اوسط سے رنز بنے تھے۔

بھارت کے پاس  اچھے فاسٹ اور اسپین بولرز تھے نیوزی لینڈ کی  دوسری اننگز کا آغاز اچھا نہیں ہوا ۔ پہلا نقصان 33رنز پر لیتھم کی صورت میں برداشت کرنا پڑا جو 9 رنز بنا کرایشون کی گیند کو کریز سے باہر نکل کر کھیلنے کی کوشش میں اسٹمپ آؤٹ ہوگئے۔

اس مشکل وقت میں ولمیسن پھر میدان میں اترے ابھی 11 رنز کا اضافہ ہوا تھا کہ ایشون نے کونوے کو  19 ذاتی اسکور پر ایل بی ڈبلیو کر دیا۔ اس سے نیوزی لینڈ کے کیمپ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ لیکن  راس ٹیلر اور ولمیسن کی تجربہ کار جوڑی نے جرات  کے ساتھ بھارتی بولرز کا سامنا کیا اور  آہستہ آہستہ منزل کی جانب بڑھتے رہے جب بھی انہیں کوئی ہلکی گیند ملتی تو و ہ اسے  باؤنڈری پار پہنچانے سے نہیں چوکتے تھے۔

 ایک مرحلے پر امپائر مائیکل گف نے کیوی کپتان ولمیسن کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ قرار دے دیا تھا لیکن ولمیسن نے ریویو لیا جس میں واضح دکھائی دے رہا تھا کہ سیدھی گیند لیگ اسٹمپ کو مس کررہی تھی۔

فیصلہ واپس ہونے پر کیوی کپتان نے سکھ کا سانس لیا جبکہ  بھارتی کھلاڑیوں کے چہرے اتر گئے کیونکہ کین ولیمسن مشکل حالات میں ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کر رہے تھے۔

ولمیسن کا اسکور جب 45 تھا تو بمرا نے ان کا کیچ ڈراپ کر دیا اور ٹیلر کا کیچ 26 رنز پر پوجارا کے ہاتھوں سے نکل گیا تھا۔ دونوں بلے باز انہماک سے کھیلتے رہے اور 46 ویں اوور میں راس ٹیلر نے لیگ کی جانب چوکا لگا کر  ہدف پورا کر لیا اور نیوزی لینڈ کو اولین ٹیسٹ چیمپئن بنوا دیا۔

ٹیلر اور ولیمسن نے 28.3 اوورز میں ناقابل شکست شراکت میں  96 رنز جوڑے تھے۔ کائل جیمیسن کو فائنل کا بہترین کھلاڑی قرار دیا جنہوں نے سات بھارتی بلے بازوں کو پویلین بھیجا تھا۔  نیوزی لینڈ کوورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ گرز کے ساتھ انعامی رقم بھی ملی۔

نیوزی لینڈ کیب وزیراعظم نے ٹیم کومبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ ایک چھوٹے ملک کے کھلاڑیوں نے عالمی چیمپئن کا اعزاز حاصل کر کے ملک کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ کین ولیمسن کی قیادت میں ٹیم حریفوں کیلئے سیسہ پلائی دیوارثابت ہورہی ہے۔

سر رچرڈ ہیڈلی کا کہنا تھا کہ یہ ٹیم نیوزی لینڈ کی تاریخ کی بہترین ٹیم ہے۔ اس کی کامیابیوں نے تسلسل نے دنیائے کرکٹ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے۔ اس کا ہرکھلاڑی مشکل وقت میں جم کر مقابلہ کرنے کی بدرجہ اتم صلاحیت رکھتا ہے۔ بھارتی لیجنڈ سچن ٹنڈولکر نے کہا کہ کین ولیمسن کی قیادت میں بلیک کیپس نے شاندار کارکردگی پیش کی جس پر وہ جیت کے بجا مستحق تھے۔

ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن کپتان کین ولیمسن کا کہنا تھا اس خوشی  کے احساسات کو بیان کرنے کیبلئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ یہ صرف ان گیارہ کھلاڑیوں کی کامیابی نہیں ہے بلکہ یہ دو سال کے دور میں نیوزی لینڈ کی نمائندگی کرنے والے 22 کرکٹرز کی مشترکہ جدوجہد کا ثمر ہے۔ جنہوں نے مختلف اوقات میں کرکٹ ٹیم کیلئے خدمات انجام دیں۔

139رنز مجھے کبھیاتنے مشکل نہیں لگے تھے جتنے  ساؤتھمپٹن ٹیسٹ کی چوتھی اننگز میں تھے۔ راس ٹیلر کے ساتھ  میں نے کئی  طویل پارٹنر شپس کی ہیں لیکن اس وکٹ پر ہمیں  بھی دشواری پیش آئی تھی ۔ ہمارے پاس بڑے اسٹارز نہیں ہیں لیکن ہمارے پاس باصلاحیت اور پر عزم کھلاڑی موجود ہیں جن کی محنت نے ہمیں اس مقام تک پہنچایا ہے۔

بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے نیوزی لینڈ کی ٹیم کو ورلڈ چیمپئن بننے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ انہوں نے تمام شعبوں میں ہم سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا تاہم کوہلی کا کہنا ہے کہ کسی ٹیم کے ورلڈ چیمپئن ہونے کی صلاحیت کا ایک ٹیسٹ میچ سے نہیں لگایا جا سکتا اگلی ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل بیسٹ آف تھری ٹیسٹ میچ سیریز پر مشتمل ہونا چاہیے۔

دوسری اننگزمیں ہمارے کھلاڑی کیوی بولرز کو  سنبھل کر نہیں کھیل پائے۔ اگر مزید 50 رنز بن جاتے تو صورت حال مختلف ہو سکتی تھی۔

اسٹیڈیم میں موجود تین ہزارتماشائیوں میں سے زیادہ تر بھارتی ٹیم کے سپورٹرز تھے جواپنے کھلاڑیوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ بھارتی کپتان ویرات کوہلی بھی انہیں اشارے کر کے شور مچانے کا کہتے رہے۔

نیوزی لینڈ کے سپورٹرز کی تعداد تقریباً ایک سو تھی جن کی آواز بھارتیوں کے شور میں دب جاتی تھی۔  جب نیوزی لینڈ کا اسکور دو وکٹوں کے نقصان پر 125 پر پہنچا تو بھارتی حامیوں نے اسٹیڈیم سے باہر جانا شروع کر دیا تھا کیونکہ انہیں شکست یقینی دکھائی دے رہی تھی۔  2013 کے بعد بھارتی ٹیم چھٹے انٹرنیشنل ٹورنامنٹ سے خالی ہاتھ واپس لوٹی ہے۔

گزشتہ 10 برسوں میں نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم ایک نئی قوت بن کر ابھری ہے۔ اس سے پہلے وہ ایک اوسط درجے کی ٹیم تھی جس کو ہوم گراؤنڈ پر بھی غیر ملکی ٹیمیں آسانی سے شکست سے دو چار کر دیتی تھیں۔

نیوزی لینڈ کی ٹیم کو ایمچر سے پروفیشنل بننے میں طویل وقت لگا۔ نیوزی لینڈ نے 1930 میں ٹیسٹ کرکٹ کا آغاز کیا تھا اور اسے پہلی ٹیسٹ کامیابی  26 سال میں نصیب ہوئی جبکہ اس کو پہلی ٹیسٹ سیریز جیتنے میں    39سال لگے۔

نیوزی لینڈ نے ٹیسٹ کرکٹ کا آغاز 10 جنوری 1930 کو انگلینڈ کے خلاف کرائسٹ چرچ سے کیا تھا جس مہمان ٹیم نے 8 وکٹوں سے کامیاب حاصل کی تھے۔ یہ اتفاق ہے کہ اسی وقت انگلینڈ کی ایک اور ٹیم ویسٹ انڈیز کے دورے پر تھی جہاں ویسٹ انڈیز نے بھی ٹیسٹ 11 جنوری 1930 کو کھیلا تھا جو ڈرا ہو گیا تھا۔

 نیوزی لینڈ اپنے  ابتدائی  80  ٹیسٹ میچوں میں سے صرف تین  ٹیسٹ میں فاتح رہا تھا  جبکہ 20 ٹیسٹ میچز میں  اننگز کے مارجن سے شکست ہوئی تھی۔

نیوزی لینڈ طویل عرصے تک دوسرے درجے کی ٹیم رہی حالانکہ اس نے کرکٹ کی دنیا کو نامور کھلاڑی دیئے جن میں برٹ سٹکلف‘ جان ریڈ‘  گلین ٹرنر‘ مارٹن کرو‘ سر رچرڈ ہیڈلی‘ جان رائٹ‘ اسٹیفن فلیمنگ‘ ناتھن آسٹل‘ کرس کینز‘   مارک گریٹ بیچ‘ جرمی کونی‘ڈینیل ویٹوری‘ شین بونڈ‘ کرس مارٹن‘ ایان اسمتھ‘ جیکب اورم‘ ڈینی موریسن اور دیگر کئی نامورکرکٹرز دیئے ہیں۔

اسٹیفن فلیمنگ کی قیادت میں نیوزی لینڈ آئی سی سی ٹرافی جیتی تھی۔ جارحانہ بیٹنگ کرنے والے کپتان برینڈن میکولم نے نیوزی لینڈ کی ٹیم کو  فتح گر جتھے میں تبدیل کرنے کاا کام شروع کیا تھا۔ میکولم کے بعد جب کپتانی کی ذمہ داری ولیمسن کے کاندھوں پر آئی تو قابل اعتماد بلے باز کین ولیمسن نے ٹیم کو مسلسل فتح کی شاہراہ پر گامزن کردیا۔

اب یہ ٹیم ناصرف ہوم گراؤنڈ پر ناقابل شکست ہے بلکہ دیگر ٹیموں کو ان کے گھر میں شکست سے دوچار کر رہی ہے۔  اب ہومگراؤنڈ پر نیوزی  لینڈ کو ہرانا اتنا ہی مشکل کام ہے جیسے ایک زمانے میں ایشز میں آسٹریلیا کو اس کی سرزمین پر زیر کرنا تھا۔

ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ  جیتنے سے نیوزی لینڈ کے 2019 کے ون ڈے ورلڈ کپ فائنل میں شکست کے زخم مندمل ہو گئے۔  لارڈز کرکٹ گراؤنڈ پر اس فائنل میں امپائر کی غلطی سے نیوزی لینڈ کو سپر اوور میں انگلینڈ کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی جس کا بعد میں اعتراف بھی کر لیا گیا تھا۔ نیوزی لینڈ کے سابق کپتان اورمعروف بیٹسمین جرمی کونی کا کہنا تھا یہ نیوزی لینڈ نے  اس مقام تک پہنچنے کیلئے طویل سفر طے کیا۔

نیوزی لینڈ کی یہ کامیابی کھلاڑیوں کے انہماک‘ جیت کے جذبے اور لگن کا ثبوت ہے جس کے نتیجے میں انہوں نے یہ تاریخی کارنامہ انجام دیا۔ کین ولیمسن کی قیادت میں ٹیم  بیمثال کارکردگی دکھا رہی ہے۔ ٹم ساؤتھی کا کہنا تھا کہ ورلڈ  ٹیسٹ چیمپئن کہلوانا زبردست اوراچھا لگتا ہے۔

یہ ہماری مسلسل اور انتھک محنت کا ثمر ہے۔  ہم نے کسی بھی مرحلے پر حوصلہ نہیں ہارا اور مشکل وقت میں بھی ہمارے ہرکھلاڑی نے ذمہ دارانہ کھیل پیش کیا جس کا نتیجہ ورلڈ چیمپئن کی صورت میں سامنے ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ہماری کرکٹ ٹیم نے بہت کامیابیاں سیمٹی ہیں۔

نیوزی لینڈ کے وکٹ کیپر بیٹسمین بی جے واٹلنگ عالمی چیمپئن کی حیثیت سے کرکٹ کی دنیا سے ریٹائر ہو گئے یہ ان کا آخری ٹیسٹ میچ تھا۔

انہوں نے 2012  سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ   تک 67 ٹیسٹ میچوں میں نیوزی لینڈ کی نمائندگی کی۔  انہوں نے فائنل میں وکٹ کیپنگ کے دوران انگلی اتر جانے کے باوجو پورا میچ کھیلا۔ وہ طبی امدا د لے کر واپس آئے اور وکٹ کیپنگ کے فرائض انجام دیئے۔

متعلقہ خبریں