نیوزی لینڈ کی ویٹ لفٹر اولمپک کی پہلی خواجہ سرا ایتھلیٹ ہوں گی

ویٹ لفٹر لوریل ہبارڈ اولمپکس میں حصہ لینے والی پہلی خواجہ سرا ایتھلیٹ ہوں گی۔ انہیں نیوزی لینڈ نے ٹوکیو گیمز کے موقع پر خواتین کے مقابلوں کے لیے سلیکٹ کیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد سے کھیلوں میں شمولیت اور منصفانہ رویوں پر بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق لوریل ہبارڈ 87 کلو گرام کے وزن اٹھانے کی کیٹیگری میں حصہ لیں گی۔
مزید پڑھیں
ٹوکیو گیمز میں سب سے زیادہ عمر کی ویٹ لفٹڑ 43 سالہ لوریل ہبارڈ نے 2013 میں اپنی جنس تبدیل کرنے سے قبل مردوں کے ویٹ لفٹنگ مقابلوں میں حصہ لیا تھا۔
نیوزی لینڈ اولمپک کمیٹی کی جانب سے پیر کو جاری ہونے بیان کے مطابق لوریل ہبارڈ نے کہا ہے کہ ’نیوزی لینڈ کے شہریوں کی جانب سے ملنے والی حمایت کے لیے میں ان کی شکر گزار ہوں۔’
لوریل ہبارڈ 2015 سے اولمپکس میں حصہ لینے کے لیے اہل ہیں، جب انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے خواجہ سرا (ٹرانسجینڈر) ایتھلیٹس کو خواتین کے طور پر کھیلوں میں شامل ہونے کی اجازت دی تھی۔
انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے طے کردہ معیار کے مطابق پہلے مقابلے سے کم از کم 12 مہینے قبل خواتین کے طور پر حصہ لینے والی ایتھلیٹ کے جسم میں ٹیسٹوسٹرون کی سطح 10 نینومولز فی لیٹر سے کم ہونی چاہیے۔

نیوزی لینڈ اولمپک کمیٹی کے مطابق ’لوریل ہبارڈ کمیٹی اور انٹرنیشنل ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کے معیار پر پورا اترتی ہیں۔‘ (فائل فوٹو: ان سپلیش)
کچھ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ معیار زیادہ کارآمد نہیں کیونکہ وہ افراد جو مردوں کے طور پر بلوغت سے گزرتے ہیں انہیں زیادہ فائدہ ہے کیونکہ ان کی ہڈیاں زیادہ مضبوط ہوتی ہیں۔
تاہم خواجہ سراوں کی شمولیت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ’جب کوئی شخص اپنی جنس تبدیل کرتا ہے تو اس عمل میں اس کی مردانہ جسامت میں فرق آ جاتا ہے، یعنی ہڈیوں کی مضبوطی جیسے فوائد کم ہوجاتے ہیں۔‘
نیوزی لینڈ اولمپک کمیٹی کی سی ای او کیرین سمتھ نے کہا ہے کہ ’لوریل ہبارڈ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی اور انٹرنیشنل ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کے معیار پر پورا اترتی ہیں۔‘
 نیوزی لینڈ کے وزیر کھیل گرانٹ رابرٹسن نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ‘لوریل نیوزی لینڈ کی اولمپک ٹیم کی رکن ہیں۔ ہمیں ان پر اور اپنے دیگر ایتھلیٹس پر فخر ہے اور ہم ان کی مکمل حمایت کریں گے۔’