ن لیگی رہنماء عطاء اللہ تارڑ کی گرفتاری و رہائی

عطاء تارڑکو گرفتارنہیں کیا، وہ خود گاڑی میں بیٹھے، پولیس

ڈپٹی سیکریٹری جنرل مسلم لیگ ن عطاء اللہ تارڑ کو گرفتاری کے کچھ ہی دیر بعد رہا کردیا گیا۔ ن لیگی رہنماء کہتے ہیں کہ گرفتاری کی وجوہات نہیں بتائیں گئیں۔ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ زیادتی پر ہر سطح پر آواز اٹھائیں گے۔

مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء عطا اللہ تارڑ کو ڈسکہ پوليس نے گرفتار کیا تاہم کچھ دیر بعد ہی انہیں رہا کردیا گیا۔ ن لیگی ذرائع کہتے ہیں کہ پولیس کی جانب سے عطاء تارڑ کی گرفتاری کی وجوہات نہیں بتائی گئی۔

مسلم لیگ ن کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل عطاء اللہ تارڑ الیکشن مہم کے سلسلے میں ڈسکہ پہنچے تھے۔

ڈسکہ پولیس کا کہنا ہے کہ ن لیگ کی ریلی میں 10 افراد اسلحہ کے ساتھ چل رہے تھے، پستول لائسنس نہ ہونے پر کارکن کو گرفتار کرنے آئے تھے، لیگی رہنماء عطاء تارڑ کو گرفتار نہیں کیا گیا وہ خود پولیس موبائل میں بیٹھے۔

پولیس کا مؤقف ہے کہ عطاء تارڑ نے زبردستی موبائل میں بیٹھنے کیلئے جگہ بنائی، ن لیگی ڈویژنل صدر عابد کوٹلا کی گاڑی کی تلاشی لی تھی، مسلم لیگ ن کے سوشل میڈیا ونگ نے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی۔

ن لیگی رہنماء عظمیٰ بخاری کہتی ہیں کہ پنجاب پولیس اتنی بھی معصوم نہیں کہ خود ہی گرفتار ہو جائیں، ویڈیو میں عطاء تارڑ پوچھ رہے ہیں کہ مجھ پر الزام کیا ہے، ویڈیو میں نے ہی بنائی اور میں نے ریلیز کی ہے۔

وزیراطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان کا واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہنا ہے کہ ن لیگ والے فریب، دھوکا کرنے میں بہت پکے لوگ ہیں، تیسرے درجے کے لیڈر بھی ہیرو بننے کی کوشش کررہے ہیں، حقیقت کھل کر آگئی ہے۔

اس سے قبل سماء سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنماء طلال چوہدری نے عطاء اللہ تارڑ کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ گرفتاری حکومت کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے، انہیں نظر آرہا ہے کہ الیکشن ہار رہے ہیں، لوگوں کا ری ایکشن الیکشن والے دن نظر آئے گا، کبھی کسی کا گھر گراتے ہیں، کبھی مقدمہ درج کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عطاء تارڑ کی بغیر ایف آئی آر کے گرفتاری اغواء ہے، ایسے اغواء وہی لوگ کررہے ہیں جنہوں نے پورے ملک کے لوگوں کے آئینی حقوق کو اغواء کیا ہوا ہے، سیٹ ہارتے ہوئے دیکھ کر عطاء تارڑ کو گرفتار کیا گیا، یہ ان کا آبائی علاقہ ہے، وہ الیکشن مہم میں اہم کردار ادا کررہے ہیں، حکومت ہماری مہم کو متاثر کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

طلال چوہدری نے بتایا کہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف کل ڈسکہ کا دورہ کریں گے، ان کی ڈسکہ میں موجودگی حکومت سے برداشت نہیں ہوگی۔

این اے 75 ڈسکہ، سیالکوٹ کی نشست ن لیگ کے افتخار الحسن شاہ کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی، الیکشن کمیشن پاکستان نے اس نشست پر ضمنی انتخابات کے سلسلے میں 21 فروری کو پولنگ کا دن مقرر کیا ہے۔

متعلقہ خبریں