وراثتی سرٹیفکیٹس نادرا میگا سینٹر سے حاصل کئے جاسکتے ہیں

نادرا کے وراثتی سرٹیفکیٹس اور لیٹرز آف ایڈمنسٹریشن ڈیفنس کراچی میں واقع میگا سینٹر پر دستیاب ہوں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے نے نادرا میگا سینٹر ڈی ایچ اے میں وراثتی سرٹیفکیٹ ون ونڈو آپریشن سسٹم کا افتتاح کردیا، جہاں سے وراثتی سرٹیفکیٹس اور لیٹر آف ایڈمنسٹریشن درخواست جمع کرانے کے 15 دن میں حاصل کئے جاسکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی نے 28 اپریل کو وراثت سے متعلق قانون پاس کیا تھا، 6 ہفتوں کے اندر ہی اسے گزیٹ میں شائع کردیا گیا تھا اور اب اس پر عملدرآمد بھی شروع ہوگیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ نادرا شہریوں کی معلومات کا نگہبان ہے، وراثتی سرٹیفکیٹس اور لیٹر آف ایڈمنسٹریشن حاصل کرنے میں تین سے 36 ماہ کا عرصہ لگتا تھا جبکہ کچھ کیسز میں 5 سال بھی لگ جاتے تھے، یہی وجہ ہے کہ وراثتی سرٹیفکیٹس جاری کرنے کی ذمہ داری اسے دی گئی ہے۔

مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ آج کراچی میں نادرا نے وراثتی سرٹیفکیٹس اور لیٹر آف ایڈمنسٹریشن کا اجراء شروع کیا ہے اور 25 جون تک یہ سہولت پورے سندھ میں دستیاب ہوگی۔

انہوں نے کہا خاندان کے کسی بھی فرد کی موت کے بعد قانونی ورثاء وراثتی سرٹیفکیٹس اور لیٹر آف ایڈمنسٹریشن حاصل کرنے سے قبل سالوں تک عدالتوں کے چکر لگاتے تھے، نادرا کے زیرانتظام وراثتی سہولت یونٹ (سکسیشن فیسیلیٹیشن یونٹ) کے ذریعے اس عمل کو آسان بنایا جاسکتا ہے۔

درخواست دینے کا طریقہ : درخواست گزار خاتون یا مرد وراثتی یونٹ جاکر اپنا قومی شناختی کارڈ نمبر اور انتقال کرجانیوالے کے موت کے سرٹیفکیٹ کے ساتھ درخواست جمع کراسکتا ہے۔

قانونی وارثین اور اثاثوں کی تفصیلات : درخواست گزار قانونی ورثاء اور انتقال کرجانیوالے شخص کے قابل انتقال اور  ناقابل انتقال اثاثوں سے متعلق تفصیلات جمع کرائے گا۔

تصدیق اور قانونی وارثین میں اتفاق رائے : درخواست گزار کی جانب سے مذکورہ تمام قانونی وارثین کو کسی بھی نادرا رجسٹریشن پر بایو میٹرک تصدیق اور درخواست دہندہ کی جانب سے وراثتی درخواست کے اندراج کیلئے رضامندی دینی ہوگی۔

اخبار میں اشہتار : نادرا متعلقہ درخواست پر کسی بھی طرح کے اعتراض کیلئے بڑے پیمانے پر شائع ہونیوالے تین اخبارات اردو، سندھی اور انگریزی میں عوامی نوٹس شائع کرے گا۔

سرٹیفکیٹ کی چھپائی اور فراہمی : اخبارات میں اشتہار کی اشاعت کے 14 روز کے اندر اگر کوئی اعتراض سامنے نہ آیا تو وراثتی سرٹیفکیٹ چھاپ کر درخواست دہندہ کو جاری کردیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں