وزارت داخلہ کی الیکشن کمیشن سےضمنی انتخابات موخرکرنے کی استدعا

وفاقی وزارت داخلہ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے 16 اکتوبر کو ملک کے مختلف علاقوں میں قومی اسمبلی کے حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات کو تین مہینے کے لیے موخر کرنے کی درخواست کی ہے۔
جمعے کو وزارت داخلہ کی جانب سے الیکشن کمیشن کے نام لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن حالیہ سیلاب کی وجہ سے ملک کے مختلف حلقوں میں ہونے والے ضمنی اور بلدیاتی انتخابات کو موخر کر دے۔
مزید پڑھیں
’اس کے علاوہ ڈینگی بخار اور دوسری جان لیوا بیماریوں نے بھی صورتحال کو بدتر بنا دیا ہے۔ جیسا کے آپ جانتے ہیں کہ پاکستانی فوج اور فرنٹیئر کور (ایف سی) نے قومی اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کے تعاون سے وسیع پیمانے پر ریسکیو آپریشنز شروع کر رکھے ہیں۔ ان حالات کی روشنی میں وفاق اور صوبوں نے اپنے زیادہ تر وسائل سیلاب سے بے گھر ہونے والے افراد کی بحالی کے لیے مختص کر رکھے ہیں۔‘
وزارت داخلہ کے خط کے مطابق ’انٹیلی جنس ایجنسیوں کی قابل اعتماد رپورٹس میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایک سیاسی جماعت 12 سے 17 اکتوبر کے درمیان وفاقی دارالحکومت کے محاصرے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جبکہ 16 اکتوبر کو ہی ضمنی انتخابات ہونے ہیں۔‘
’ان حالات میں دارالحکومت میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ دستیاب سپاہیوں کی ضرورت ہوگی۔‘
واضح رہے کہ منگل کو حکومت نے تحریک انصاف کے ممکنہ لانگ مارچ کی صورت میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فوج کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کی زیرصدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ’لانگ مارچ کے موقع پر اسلام آباد میں آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج تعینات کی جائے گی۔‘
وزارت داخلہ نےخط میں کہا ہے کہ ان حالات کی روشنی میں پاکستانی فوج، رینجرز اور ایف سی کو اگر الیکشن ڈیوٹی کے لیے کہا گیا تو ان پر بہت زیادہ بوجھ آ جائے گا۔ اس کے علاوہ ’آئین کے آرٹیکل 218 کی ذیلی شق 3 کے تحت انتخابات کی ساکھ پر بھی سوال اٹھ سکتا ہے۔‘
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ ضمنی انتخابات کی تاریخ 90 روز کے لیے آگے کر دے۔