وزارت میں گڑبڑ کرنے والے وزیرکودوسری وزارت کیوں دی جاتی ہے،قادرپٹیل

جو ممالک 1992 کا ورلڈ کپ ہار گئے وہ خوش نصیب تھے

کراچی سے منتخب ہونے والے پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی میں قادرپٹیل نے کہا ہے کہ جب کوئی وزیرایک وزارت میں گڑبڑ کرتا ہے تو اس کو دوسری وزارت کیوں دے دی جاتی ہے۔

ہفتے کو قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پیپلزپارٹی رہنما عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ جو ممالک 1992 کا ورلڈ کپ ہار گئے وہ خوش نصیب تھے،اتنا نقصان پاکستان کو کسی نے نہیں پہنچایا جتنا اس شیشے کے مرتبان نے پہنچایا۔

قادر پٹیل نے کہا کہ وزیراعظم نے گھروں کی قرعہ اندازی کی تو پانچوں نام سامنے بیٹھے لوگوں کے کیسے نکل آئے۔ پشاورمیں لوگوں کو 66 لاکھ کا گھر دیا جارہا ہے اور پشاور کے اس علاقے میں اب بھی 5 لاکھ روپے کا گھر مل جاتا ہے۔

قادر پٹیل نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس ثبوت ہیں کہ چیئرمین نیب بلیک میل ہو رہے ہیں۔ کابینہ کے آدھے وزیروں کی وزارت نااہلی پر تبدیل کی گئی اورجس وزیر نے ایک وزارت میں گڑبڑ کی تو اس کو دوسری وزارت کیوں دے رہے ہیں۔

پیپلزپارٹی رہنما نے یہ بھی کہا کہ جس وزیراطلاعات پرکمیشن کا الزام لگایا اس کوپنجاب میں پھروزارت دے دی۔ حکومت کے اتنے اسکینڈلز سامنے آئے لیکن کسی کے خلاف کاروائی نہیں ہوئی۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ کرپشن میں ملوث سب لوگ بھاگ جائیں گے،اس لیے ایسے وزیروں کوپارلیمنٹ پیسے کیوں دے۔ حکومت نے 3 برس میں کچھ نہیں کیا اور باقی 2 برس بھی کچھ نہیں کریں گے۔ حکومت کے 120 لوگوں کا صرف یہ کام ہے کہ پچھلی حکومتوں کو برا کہتی ہے۔ اس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے ہدایت کی کہ صرف ایجنڈے پر بات کی جائے۔قادر پٹیل نے جواب دیا کہ ميرا ايجنڈا ہی حکومتی ناکامی بيان کرنا ہے۔

کرونا سے متعلق قادر پٹیل نے کہا کہ کرونا کے آڈٹ میں اربوں روپے کی ہیرپھیر کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں