وزیراعظم آج شام قوم سے خطاب کرینگے

وزیراعظم عمران خان آج شام قوم سے خطاب کریں گے۔  اپنے خطاب میں وزیراعظم قوم کو اعتماد میں لیں گے۔

وزیراعظم عمران خان شام ساڑھے 7 بجے قوم سے خطاب کریں گے۔

صادق سنجرانی

سما سے خصوصی گفتگو میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے بتایا کہ آج وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ حکمراں جماعت کی جانب سے سینیٹ چیئرمین کیلئے صادق سنجرانی کو نامزد کیا گیا ہے۔

اسلام آباد: اجلاس کے دوران کی جھلک

وفاقی وزیر داخلہ نے مزید بتایا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس ہفتہ کے روز شام 4 بجے بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جب کہ کل بروز جمعہ وزیراعظم پارلیمانی اتحادیوں کیساتھ میٹنگ کی صدارت کریں گے۔ اعتماد کا ووٹ لینے کیلئے وزیراعظم کی جانب سے اراکین کو مخصوص ٹاسک سونپے گئے ہیں، جس کیلئے کمیٹیاں قائم کردی گئی ہیں۔

اعتماد کے ووٹ سے متعلق شیخ رشید نے کہا کہ اگر وزیراعظم اعتماد کا ووٹ نہیں لے سکے تو حکومت ختم ہو جائے گی، تاہم جو قانون کے مطابق اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لے لے۔ اس کے خلاف 6 مہینے تک عدم اعتماد کی تحریک نہیں آئے گی۔

گھبراؤں گا نہیں،عمران خان

آج 4 مارچ کو وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اہم اجلاس میں عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے پہلے ہی پتا تھا کہ سینیٹ انتخابات میں پیسے چلیں گے۔ مخالفین کے ہتھکنڈوں سے گھبراؤں گا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب کے ناموں کا مجھے پتا ہے۔ ہمارے چند لوگ خریدے گئے ہیں۔

حفیظ شیخ کا کیا ہوگا؟

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سینیٹ الیکشن ہارنے کے بعد حفیظ شیخ کو 6 ماہ میں رکن پارلیمنٹ بنانا لازمی ہوگا، 6 ماہ کی مدت پوری ہونے پر انہیں دوبارہ مشیر بنانا پڑے گا۔

شبلی فراز

سما سے گفتگو میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے بتایا کہ ہم نتائج دیکھ کر فیصلہ نہیں کرتے، ہم اخلاقی بنیادوں اور اصولوں پر فیصلہ کرتے ہیں۔ ہم اپوزیشن کی کرپشن اور چالوں کو ہرائیں گے۔ اپوزیشن کو کافی پریشانی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے جتنے بھی ایم این ایز ہیں وہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ ہمارے لوگ پورے ہیں۔ حکمت عملی تو کوئی خاص نہیں ہے۔ ہم ملک، اداروں اور جمہوریت کی بہتری کیلئے فیصلے کرتے ہیں۔ ہمیں کوئی نہ یاد دلائے کہ ہم نے کیا کرنا ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم ہاؤس میں آج ہونے والے اجلاس میں عمران خان نے اپنی لیگل ٹیم سے بھی مشاورت کی۔ اجلاس کے بعد وزیراعظم نے پارٹی ارکان اسمبلی کو اسلام آباد سے باہر جانے سے روک دیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے واضح ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ارکان اسلام آباد میں رہیں گے۔ چیف وہپ عامر ڈوگر نے وزیراعظم کا پیغام تمام پی ٹی آئی ارکان کو پہنچا دیا۔ ہدایت میں تمام ارکان کو قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

ن لیگ کا مؤقف

سما سے گفتگو کرتے ہوئے ن لیگ کی رہنما عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو اب شرم کرنی چاہیئے اور گھر چلے جانا چاہیئے۔

تحریک عدم اعتماد میں کیا ہوتا ہے؟

آئین کے آرٹیکل 95 کے مطابق اسمبلی کے اراکین کی کل تعداد کا 20 فیصد یعنی69  اراکین قومی اسمبلی اپنے دستخط کے ساتھ وزیراعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش کرتے ہیں۔ تحریک پیش ہوتے ہی اسمبلی سارے کام چھوڑ دے گی اور 3 سے 7 روز کے اندر اندر عدم اعتماد کی قرارداد پر ووٹنگ ہوگی۔ اگر اسمبلی کے نصف سے زائد یعنی 172 ممبر اس کو منظور کرلیں تو وزیراعظم اپنے وزیروں سمیت گھر چلے جائیں گے۔

آئین کے آرٹیکل 197 کے تحت جو وزیراعظم اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیتا ہے، اس کے خلاف اگلے 6 ماہ تک کوئی عدم اعتماد کی تحریک نہیں آسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں