وزیراعظم ریپ جرائم کی وجوہات نہیں سمجھ پائے، ایمان مزاری

rape-

فوٹو: آن لائن

انسانی حقوق کی رہنما ایمان مزاری نے کہا ہے یہ بات واضح ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کو ابھی تک سمجھ نہیں آرہی کہ ریپ جرائم کے پیچھے وجوہات کیا ہیں۔

سماء ٹی وی کے پروگرام سوال میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم ایسا سمجھتے ہے کہ ریپ کی وجہ ہوس ہے لیکن ایسا نہیں بلکہ یہ طاقت کا غلط استعمال ہے۔

ایمان مزاری نے کہا کہ وزیراعظم کو ریپ کیسز سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلے کو پڑھنا چاہیئے جس میں لکھا ہے کہ ریپ کا کپڑوں، شخصیت اور کردار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم ریپ کے مجرموں کو سزائیں دینے سے متعلق بات کرتے ہیں تو اسکے لیے وزیراعظم کیمیکل کاسٹریشن کی سزا تجویز کرتے ہیں لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں ہے کیونکہ اس طرح ریپ کیسز نہیں رکتے۔

ایمان مزاری نے مزید کہا کہ ہمیں یہ بات سمجھنا ہوگی ریپ کی سزا پر عمل درآمد زیادہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’مرد روبوٹ نہیں ہیں‘‘ کے وزیراعظم کے تبصرے نے پاکستانی مردوں کو بین الاقوامی سطح پر جانوروں کی طرح پیش کیا ہے جو ملک کے تمام مردوں کی توہین ہے۔

مردروبوٹ نہیں، عورت کم کپڑے پہنے گی تواسکا اثرہوگا، وزیراعظم

مذہبی اسکالر علامہ ابتسام الہٰی ظہیر نے گفتگو میں کہا کہ خواتین کے لباس پر وزیر اعظم کا بیان سراسر غلط نہیں ہے کیونکہ انہوں نے ریپ کے بہت سے عناصر میں سے ایک عنصر بتایا ہے۔

ابتسام الہٰی ظہیر نے کہا کہ وزیراعظم نے اس حوالے سے احتیاطی تدابیر بتائی ہے اور اسلام نے بھی ریپ کے بہت سے عوامل بتائے ہیں جس میں سے کوئی نہ کوئی عمل ریپ کی وجہ بن جاتا ہے۔ وزیراعظم کے بیان کو مسترد کرنا درست کرنا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام کا حکم ہے عورت پردہ کرے لیکن کوئی عورت پردہ نہیں کرتی تو یہ اسکی مرضی ہے۔ البتہ پردے کے حکم کو ماننا لازمی ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کی کنول شوزب اور ڈاکٹر نوشابا نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے بیان کو سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔

پی ٹی آئی کی ایم این اے کنول شوزب نے بتایا کہ وزیر اعظم کا پورا انٹرویو چینل پر نہیں چلایا گیا تھا۔

پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ سب کی طرح وزیر اعظم کو بھی اظہار رائے کی آزادی کا حق ہے اور وہ کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو صرف کہتا ہے بلکہ ان کا عمل بھی سامنے ہے۔

واضح رہے کہ امریکی ٹی وی ’’ایکزیوس‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ رد کوئی روبوٹ نہیں، اگر عورت کم کپڑے پہنے گی تو اس کا اثر تو ہوگا، ہمارے ہاں ڈسکو یا نائٹ کلب نہیں، یہ بالکل مختلف معاشرہ ہے۔

متعلقہ خبریں