وزیراعظم عمران خان کا برطانیہ پر پاکستان سے سفری پابندی ہٹانے پر زور

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے پیر کو روز برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور ان پر زور دیا کہ برطانیہ پاکستان پر عائد سفری پابندی ہٹالے۔
وزیراعظم آفس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے بورس جانسن پر زور دیا کہ وہ برطانیہ کے اس فیصلے پر نظرثانی کریں جس کے تحت پاکستان کو سفری پابندیوں والے ممالک کی فہرست ‘ریڈلسٹ’ میں شامل کیا گیا تھا۔
خیال رہے برطانیہ نے 9 اپریل سے پاکستان سے آنے والے تمام مسافروں کی برطانیہ میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی ماسوائے ان مسافروں کے جو برطانوی یا آئرلینڈ کے شہری ہیں۔
مزید پڑھیں
پاکستان سمیت ریڈلسٹ والے ممالک سے آنے والے برطانویوں کے لیے حکومت کی جانب سے مقررکردہ ہوٹلز میں قرنطینہ کی شرط عائد کی گئی ہے۔  حکومت کی مقررکردہ ہوٹل میں ایک فرد کے 10 دن قرنطینہ کے اخراجات ایک ہزار 750 پاونڈز ہیں جس میں قرنطینہ کے دوران لازمی کورونا ٹیسٹ کی 210 پاونڈز فیس شامل نہیں۔
برطانیہ کے اس فیصلے کی وجہ سے کئی پاکستانی نژاد برطانوی پاکستان میں پھنس گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قرنطینہ کے اخراجات ان کے لیے ناقابل برداشت ہیں۔ اس لیے وہ ابھی تک پاکستان میں اس انتظار میں ٹھرے ہوئے ہیں کہ برطانوی حکومت پاکستان کے حوالے سے اپنی پالیسی میں تبدیلی کرے گی یا حکومت پاکستان ان کو اس مشکل صورتحال سے نکالنے میں ان کی مدد کرے گی۔
وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق عمران خان نے برطانیہ پر زور دیا کہ وہ پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ گفتگو کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، افغان امن عمل، کورونا کی صورتحال اور موسمیاتی تبدیلی کے ایشوز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
عمران خان نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور برطانیہ آپس میں مضبوط پارٹنرشب خصوصاً تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

برطانیہ نے 9 اپریل سے پاکستان سے آنے والے تمام مسافروں کی برطانیہ میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ (فوٹو: روئٹرز)
بیان میں کہا گیا کہ دونوں لیڈرز نے دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر وفود کے تبادلے کی اہمیت پر زور دیے۔
وزیراعظم عمران خان نے بورس جانسن کی برطانیہ میں کورونا سے نمٹنے کے لیے موثر کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے اپنے برطانوی ہم منصب کو پاکستان کی جانب سے کورونا سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر بریف کیا۔
افغانستان کے ایشو پر عمران خان نے افغانستان کی سربراہی اور ملکیت میں امن اور مصالحتی عمل کی پاکستان کی جانب سے حمایت کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں۔