وزیراعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کا اعلامیہ جاری

تمام شعبوں میں پاک سعودی تعلقات کومزید مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا

وزیراعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور شہزادہ سلمان نے دو طرفہ تعلقات سمیت تمام شعبوں میں مزید مضبوطی کےعزم کا اعادہ بھی کیا۔

جمعہ کو وزیراعظم عمران خان اور سعودی ولی عہد کے درمیان ون آن ون اور وفود کی سطح پر ملاقاتیں ہوئیں۔ دوطرفہ ، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی بات چیت بھی کی گئی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے دوران موجودہ دو طرفہ سیاسی ، معاشی ، تجارتی ، دفاعی اور سیکیورٹی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اورتاریخی تعلقات،مشترکہ عقائد،اقدار اور باہمی اعتماد پر گفتگو کی گئی۔ وزیراعظم نے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لئے پاکستان کی مستقل حمایت کا اعادہ کیا۔ پاکستانی عوام کی طرف سے مقدس مقامات کی سرزمین سے خصوصی عقیدت کا اظہار بھی کیا۔ وزیر اعظم نےعلاقائی امن و سلامتی کے فروغ کیلئے ولی عہد کے کردار کو بھی سراہا۔

وزیراعظم عمران خان نے پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری بڑھانے،توانائی کے شعبے میں تعاون اورسعودی عرب میں پاکستانیوں کے لئےملازمت کے مواقع بڑھانے پر خصوصی زور دیا۔وزیر اعظم نے ولی عہد کی جانب سے شروع کیے گئے “گرین سعودی عرب اور گرین مشرق وسطی” کے اقدامات کو سراہا۔ ماحولیاتی بہتری کیلئے ولی عہد کے وژن اور”10 بلین ٹری سونامی” پروگرام کو آگے بڑھانے پراتفاق کیا گیا۔

وزیراعظم نے ملاقات میں شاہ سلمان بن عبد العزیز کےلئے نیک تمناؤں کا اظہارکیا اور ولی عہد کی جانب سے سعودی عرب کے دورے کی دعوت پر اظہار تشکر ادا کیا۔ وزیر اعظم نے ولی عہد محمد بن سلمان کو دورہ  پاکستان کی دعوت دی۔

ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے مختلف معاہدوں پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سپریم کوآرڈینیشن کونسل کے قیام سے متعلق معاہدے پر دستخط  کیےگئے۔ کونسل وزیراعظم اور ولی عہد شہزادہ کی زیرصدارت کام کرے گی۔ کونسل پاکستان سعودی تعلقات کی ترقی کو اسٹریٹجک سمت فراہم کرنے کے لئے تیار کی گئی ہے۔

اس کےعلاوہ دونوں رہنماؤں نے خطے کی ترقی کیلئے سی پیک پر بھی بات چیت کی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سی پیک منصوبہ تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔جن معاہدوں پر دستخط کئے گئے ان میں جرائم کے خلاف جنگ میں تعاون سے متعلق معاہدہ بھی شامل ہے۔ سزا یافتہ افراد (قیدیوں) کی منتقلی سے متعلق معاہدہ بھی شامل ہے۔

منشیات کےغیر قانونی ٹریفک کا مقابلہ کرنے سے متعلق مفاہمت یاداشت پر بھی دستخط کئے گئے۔ ان میں کیمیکل توانائی، پن بجلی گھر، مواصلات اور آبی وسائل کی ترقی کے منصوبے شامل ہیں۔اس کےعلاوہ 500 ملین امریکی ڈالر تک کی مالی اعانت کے لئے فریم ورک کا ایم او یو کیا گیا۔

متعلقہ خبریں