وزیراعظم قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شریک کیوں نہیں ہوئے؟

پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر آفس کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن نہیں ہیں اور نہ ہی گذشتہ روز ہونے والے اجلاس کے لیے انھیں خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔
اردو نیوز کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں سپیکر قومی اسمبلی کے ترجمان نے بتایا کہ پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے 29 ارکان ہیں، سپیکر کے علاوہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سید یوسف رضا گیلانی سمیت متعدد وفاقی وزرا، پارلیمانی لیڈر اور ارکان سینیٹ و قومی اسمبلی شامل ہیں۔
مزید پڑھیں
اس کے علاوہ گذشتہ روز کے اجلاس کے لیے چئیرمین سینیٹ، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی، کئی وفاقی وزرا اور اپوزیشن ارکان کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا، جن کی تعداد 16 تھی۔
پارلیمانی جماعتوں کو یہ آپشن بھی دیا گیا تھا کہ وہ تحریری طور پر آگاہ کرکے اپنے کسی بھی رکن کو نمائندگی کے لیے بھجوا سکتی ہیں۔
ترجمان سپیکر کے مطابق ’جب وزیر اعظم کمیٹی کے رکن بھی نہیں اور انھیں خصوصی طور پر مدعو نہیں کیا گیا تھا تو اجلاس میں ان کی غیر حاضری کا تاثر دینا درست نہیں۔‘
اس سوال پر کہ کیا ’شہباز شریف نے سپیکر کو وزیر اعظم کی اجلاس میں شرکت سے متعلق کوئی پیغام دیا تھا یا نہیں؟ اس پر ترجمان کا کہنا تھا کہ ’قومی سلامتی کمیٹی کے چئیرمین کی حیثیت سے اجلاس میں ارکان کے علاوہ کس کو بلانا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ کرنا سپیکر کا کام ہے کسی اور کا نہیں۔‘
پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں وزیر اعظم کی عدم شرکت کے حوالے سے گذشتہ روز سے مختلف خبریں گردش کر رہی تھیں۔

پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے شرکا کو عسکری حکام نے بریفنگ دی تھی (فوٹو: ٹوئٹر نیشنل اسمبلی)
اجلاس کے دوران یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ بلاول بھٹو زرداری نے وزیر اعظم کی عدم موجودگی پر اعتراض کیا تھا۔ اس وقت بھی حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ ہمیں یہ تاثر دیا گیا کہ اپوزیشن نہیں چاہتی تھی کہ وزیر اعظم اجلاس میں شریک ہوں۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے معاملے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ اتنے اہم فورم پر وزیر اعظم موجود ہوتے تو اچھا ہوتا۔ تاہم جمعہ کو وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ایک ٹی وی شو میں وزیراعظم کی اجلاس میں عدم شرکت کو شہباز شریف کی خواہش قرار  دیتے ہوئے کہا تھا کہ شہباز شریف نے سپیکر سے کہا تھا کہ اگر وزیراعظم اجلاس میں آئے تو ہم اجلاس میں نہیں آئیں گے۔
ان کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے فواد چوہدری کے بیان کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’فواد چوہدری پروپیگنڈہ مشین ہیں۔ اجلاس سپیکر نے بلایا تھا تو شہباز شریف کیسے منع کرتے۔ شہباز شریف نے کسی کو کوئی پیغام نہیں بھیجا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’فواد چوہدری کے پاس شہباز شریف یا شہباز شریف کے دفتر کی کوئی سرکاری خط و کتابت ہے تو دکھائیں؟

ترجمان ن لیگ نے سوال کیا کہ ’کیا عمران صاحب کورونا کی نیشنل پارلیمانی میٹنگ سے شہباز شریف کے کہنے پر چلے گئے تھے؟ قومی اہمیت اور سلامتی کے دیگر معاملات پر عمران صاحب کیا شہباز شریف کے کہنے پر نہیں آئے تھے؟ الیکشن کمیشن ارکان کے تقرر کے لیے مشاورت سے بھی شہباز شریف نے عمران صاحب کو منع کیا تھا؟‘
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی وزیر اعظم کی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں عدم شرکت پر وزیراعظم سے وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل نئیر بخاری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’وزیراعظم کی قومی سلامتی کمیٹی میں عدم شرکت سے ایک منفی پیغام گیا ہے۔ وزیراعظم افغانستان کے معاملے پر کتنے سنجیدہ ہیں اس کا اندازہ ان کے اجلاس سے لاتعلق رہنے سے لگایا جا سکتا ہے۔‘

پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے سوال کیا کہ ’کیا وزیراعظم نے اجلاس میں شرکت نہ کر کے یہ پیغام دیا کہ خارجہ اور داخلہ پالیسی سے ان کا کوئی تعلق نہیں؟ کیا یہ سمجھا جائے کہ قومی سلامتی کمیٹی میں متعلقہ لوگوں کو مدعو کیا گیا اور وزیراعظم خود کو غیر متعلقہ شخص سمجھ رہے ہیں؟ وزیراعظم بتائیں کہ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی کیا وجوہات ہیں؟‘