وزیراعظم کو پارلیمنٹ میں زیادہ آنا چاہیے،اسدعمر

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسدعمر کا کہنا ہے کہ ان کی شروع سے یہ تجویز رہی ہے کہ وزیر اعظم پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں اپنی شرکت بڑھائیں۔
قومی اسمبلی کی بجٹ سیشن میں خطاب کرتے ہوئے اسدعمر کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر کی وزیراعظم کی پارلیمنٹ میں کم آمد والی بات سے اتفاق کرتا ہوں مگر ہم چاہتے ہیں مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف بھی ملک واپس آئیں اور پاکستانیوں کے ساتھ زندگی گزاریں۔
اسدعمر کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کو وزیراعظم کے پارلیمنٹ نہ آنے کا گلہ تو ہے مگر وہ اپنے بھائی کو پاکستان واپس آنے کا تو کہیں کیوں کہ وہ ان کے ضمانتی بھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شہبازشریف کے کمزور طبقات کا خیال رکھنے والی بات کی بھی تائید کرتا ہوں لیکن ان کی خدمت میں عرض ہے کہ عمران خان نے حکومت میں آنے سے پہلے بھی جتنی غریبوں اور بیواؤں کی شوکت خانم اور عمران خان فاؤنڈیشن کے ذریعے خدمت کی ہے شائد ہی کسی نے کی ہو۔
انہوں نے کہا اس وقت بھی ملک میں کمزور طبقے کے لیے متعدد پروگرام جاری ہیں اور اس کا خرچہ وزیراعظم ہاؤس کے کم کیے گئے اخراجات سے پورا کیا جا رہا ہے جو سالانہ 108 کروڑ روپے بنتے ہیں۔
وفاقی وزیر اسدعمر کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر نے ڈینگی کا تقابل کرونا سے کیا مگر کرونا میں ہماری کارکردگی کی گواہی دنیا دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابق امریکی وزیر صحت اور بل گیٹس نے کرونا پر قابو پانے کے اقدامات کے حوالے سے بھارت کو ناکام اور پاکستان کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کو کرونا سے نمٹنا پاکستان سے سیکھنا چاہیے۔
اسدعمر کا کہنا تھا کہ عالمی ادارہ صحت نے بھی کہا ہے کہ دنیا کو انسداد کرونا میں پاکستان سے سیکھنے کی ضرورت ہے جبکہ ورلڈ اکنامک فورم کا بھی کہنا ہے کہ دنیا کے 7 ممالک نے کرونا کی باوجود اچھی معاشی کارکردگی دکھائی اور جن میں پاکستان کا نام بھی شامل ہے۔
رہنما تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ بیرون ممالک میں پاکستانیوں کی جائیدادیں نظر آجائیں تو یہ عوام کا حق ہے کہ وہ ان لوگوں سے پوچھیں کہ یہ دولت کہاں سے آئی اور قوم پر حکمرانی کرنے والوں کا فرض ہے کہ وہ جواب دیں، اس سے جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔
اسدعمر کا کہنا تھا کہ عمران خان سے عدالت نے سن 1983 میں لی گئی جائیداد کے بارے میں پوچھا اور انہوں نے اس سوال کا جواب دیا، یہ نہیں کہا کہ میرے خلاف سازش ہورہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ کی حکومت تو پوری پاکستان میں تھی مگر انہوں نے صرف پنجاب کے منصوبوں کا ذکر کیا کاش یہ بھی عمران خان کی طرح ملک بھر کے غریبوں کی یکساں خدمت کرتے۔
اسدعمر کا کہنا تھا کہ جب عمران خان زخمی ہوئے تو ان کو مشورہ دیا گیا کہ آپ کو علاج کےلیے بیرون ملک جانا چاہیے مگر انہوں کہا کہ میں اپنے ہی ملک میں اپنا علاج کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ 3 دفعہ وفاق اور 4 دفعہ پنجاب پر حکومت کرنے والے کاش ایسا ایک اسپتال بناتے جہاں نوازشریف کا علاج کیا جاسکتا۔
اسدعمر کا کہنا تھا کہ شہبازشریف نے خیبرپختونخوا کی بات کی مگر یہ بھول گئے کہ وہاں ن لیگ کی بھی حکومت تھی مگر خراب کارکردگی پر دوبارہ کبھی اس صوبے سے ووٹ نہیں لے سکے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام آزاد فیصلے کرنے والے ہیں ان لوگوں نے تاریخ میں کسی کو دوبارہ مینڈیٹ نہیں دیا مگر ہماری کارکردگی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے ہمیں دوبارہ دو تہائی اکثریت دی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ن لیگ حکومت نے ایل این جی کے مہنگے ترین منصوبے لگائے تھے اور اس کے لیے قانون میں ترمیم کی جس کو ہم نے دوبارہ بدل دیا ہے اور اس سے ڈھائی سالوں میں قوم کو 140 ارب روپے کا فائدہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں