وزیراعلیٰ بلوچستان کےخلاف ’عدم اعتماد‘ کی تحریک جمع

Jam Kamal

فوٹو: آن لائن

بلوچستان اسمبلی کے اراکین نے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کرادی۔

متحدہ اپوزیشن کے سولا اراکین اسمبلی نے وزیراعلی جام کمال کےخلاف عدم اعتماد کی تحریک سیکرٹری اسمبلی کے پاس جمع کرادی، جس پر اپوزیشن کے 16 ارکان کے دستخط موجود ہیں۔

اپوزیشن اراکین نے تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں بدامنی ،کرپشن، بے روزگاری اور لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے، آج متحدہ اپوزیشن کی جانب سے چار نکات پر عدم اعتماد جمع کرائی گئی ہے۔

اراکین کا کہنا تھا کہ 3 سالوں کے دوران جام کمال حکومت کی جو کارکردگی رہی اس پر انہیں مزید حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں، آج جو حالات ہیں صوبے کا ہر شخص اس حکومت کا خاتمہ چاہتا ہے، اپوزیشن اراکین کا تحریک کے حوالے سے مزید کہنا تھا کہ تحریک کی کامیابی کے لیے انکے پاس مطلوبہ تعداد پوری ہے۔

اپوزیشن اراکین کا کہنا تھا کہ 7 روز بعد اسمبلی اجلاس کے روز سارے نمبر پورے ہوجائیں گے، تحریک عدم اعتماد میں جن 16 اپوزیشن ارکان کے دستخط ہیں ان میں اپوزیشن لیڈر ملک سکندر ایڈوکیٹ، ثناء بلوچ، نصر اللہ زیرے، اصغر ترین، زابد ریکی، یونس عزیز زہری، اختر لانگو، ملک نصیر شاہوانی اور دیگر شامل ہیں۔

حزب اختلاف کے اراکین کا دعویٰ ہے کہ حکومتی ارکان بھی عدم اعتماد کی تحریک میں ان کا ساتھ دیں گے اور وہ کامیابی کے ساتھ ان ہاؤس تبدیلی لائیں گے۔

دوسری طرف ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے سماء سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کا عدم اعتماد کی تحریک کے لیے مطلوبہ تعداد کا دعویٰ بے بنیاد ہے، تمام حکومتی ارکان وزیراعلیٰ جام کمال کے ساتھ ہیں۔

واضح رہے بلوچستان اسمبلی کے اراکین کی تعداد 65 ہے اور وزیراعلیٰ جام کمال خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب کرانے کے لیے اسمبلی کے 33 اراکین کی ضرورت ہے جبکہ اپوزیشن کے ارکان کی تعداد 23 ہے جبکہ ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں 10 حکومتی اراکین کی بھی حمایت حاصل ہے۔