وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ پر فردِ جرم عائد کرنے کا فیصلہ

جعلی اکاؤنٹس کیس،نوری آباد پاور پلانٹ اور مبینہ منی لانڈرنگ کے کيس میں احتساب عدالت نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ پر فردِ جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرليا ہے۔

منگل کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں مراد علی شاہ کے خلاف عائد کیسز کی سماعت ہوئی۔

مرادعلی شاہ سمیت تمام ملزمان کو 30جون کو فرد جرم کے ليے احتساب عدالت نمبر 3 کے جج اصغر علی کے سامنے ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ہے۔ نیب کی جانب سے بتایا گیا کہ  شریک ملزم محمد علی بیرون ملک روپوش ہیں عدالت نے ان کو اشتہاری قرار دے دیا ہے اور ان کے دائمی وارنٹس جاری کردیے گئےہیں۔

یہ ریفرنس نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔ ریفرنس میں درج ہے کہ بطور سابق وزیرخزانہ سندھ مراد علی شاہ نے غیر قانونی طور پر عبدالغنی مجید کا کالا دھن سفید کرنے کے منصوبے میں ان کی معاونت کی تھی۔ انھوں نے نوری آباد پاور پلانٹ لگانے کی آڑ میں اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی جاتی رہی۔

 مزید پڑھیں:۔

مرادعلی شاہ نےسندھ کابینہ کوغلط حقائق بتائے،نیب کادعویٰ

واضح رہے کہ نیب ریفرنس میں وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کیخلاف سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں اور درج ہے کہ کرپشن کی 12 میں سے 5 شقوں کے تحت مراد علی شاہ کو مجرم ٹہرایا گیا ہے۔

ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اومنی گروپ سے متعلق نوری آباد میں پاورپلانٹس لگانے کا منصوبہ بغیر فیزیبلٹی منظور کرایا گیا اور قومی خزانےکے8 ارب روپے جھونک دیئے گئے۔

 مزید پڑھیں:۔

 منی لانڈرنگ: وزیراعلیٰ سندھ کیخلاف بھی ریفرنس دائر

مراد علی شاہ نےکابینہ کے سامنے اس منصوبے کو عوامی فلاح کا قرار دیا تھا۔ریفرنس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد علی شاہ نے بطور وزیر توانائی و خزانہ اختیارات کا غلط استعمال کیا اوراومنی گروپ کے ہی کنسلٹنٹ خورشید جمالی کے مشورے پر منصوبوں کا آغاز ہوا اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی آڑ میں 8 ارب روپے کے علاوہ 2 کمپنیوں کو 3 ارب روپے کا قرض مراد علی شاہ نے جاری کروایا۔

ریفرنس میں نوری آباد پلانٹ کو کےالیکٹرک گرڈ سےملانےکیلئے ٹرانسمیشن لائن کا ٹھیکہ بھی غیرشفاف بولی سےدینے کاالزام عائد کیا گیا۔

متعلقہ خبریں