وزیرستان: لاشوں کے ہمراہ ایک اور دھرنا 3 دن سے جاری

جنوبی وزیرستان کی تحصیل لدھا کے علاقے بی بی زئی راغزی میں فائرنگ سے جاں بحق ہونیوالے 2 نوجوانوں کی میتوں کو علاقہ مکینوں نے تحصیل بلڈنگ مکین کے سامنے رکھ کر 3 دن سے احتجاجی دھرنا دیا ہوا ہے۔

دھرنے میں شریک عمائدین کا کہنا ہے مطالبات کی منظوری تک دھرنا حتم نہیں کریں گے اور جب تک لواحقین کو انصاف نہیں ملتا میتوں کی تدفین بھی نہیں کی جائے گی۔

یاد رہے کہ 2 روز قبل لدھا کے نواحی علاقے میں نامعلوم افراد کی فائرنگ  سے دو نوجوان کلام الدین اور انعام اللہ جاں بحق جبکہ ایک نوجوان منصور احمد زخمی ہوا تھا۔

واقعے میں زخمی نوجوان نے اسپتال میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شوکت علی کو بتایا کہ ہم تمام دوست سحری تک جاگتے ہیں، اس رات بھی معمول کے مطابق ایک دکان میں بیٹھے بات چیت میں مصروف تھے کہ اچانک فائرنگ شروع ہوگئی۔

زخمی نوجوان منصور کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد مجھے ایف سی کے جوانوں نے رزمک اسپتال پہنچایا۔ زخمی نوجوان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

علاقہ کے ایک رہائشی مولوی شیر امان کا کہنا تھا کہ واقعہ 26 اپریل کو رات ایک بجے پیش آیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ نوجوان بند دکانوں کے باہر انٹرنیٹ استعمال کررہے تھے کہ ان پر فائرنگ ہوئی۔

ممبر صوبائی اسمبلی جمعیت علماء اسلام مولانا اعصام الدین بھی دھرنے میں شریک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کے ساتھ ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جاسکے۔

حکمران جماعت تحریک انصاف کے رکن اسمبلی نصیر اللہ خان وزیر نے بھی واقعے کی مذمت کرکے انتظامیہ سے ذمہ داران کی جلد گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیرستان سے آزاد رکن صوبائی اسمبلی میر کلام وزیر نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ وزیرستان کے لوگ گزشتہ 10 سال سے مختلف مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگ اب بھی ملک کے دیگر حصوں سمیت افغانستان میں بھی مہاجر کیمپوں میں بے یارو مددگار پڑے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کیلاف آپریشن کے بعد لوگ دوبارہ وزیرستان میں آباد ہوچکے ہیں، ان کو دوبارہ نقل مکانی پر مجبور نہ کیا جائے۔

دھرنے کے حوالے سے ایم پی اے میر کلام وزیر کا کہنا تھا کہ ہمارے 4 مطالبات ہیں۔ پہلا مطالبہ علاقے کو مسلح لوگوں سے پاک کرنا، دوسرا، واقعے میں ملوث افراد کیخلاف مقدمہ درج کرنا۔ تیسرا مطالبہ جاں بحق نوجوانوں کے لواحقین کو امدای رقوم کی فراہمی جبکہ سب سے اہم چوتھا مطالبہ علاقے میں مستقل امن کا قیام ہے۔

ڈی پی او جنوبی وزیرستان شوکت علی کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کے قتل میں نامعلوم افراد ملوث ہیں، جن کی گرفتاری کیلئے کارروائی جاری ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کا واقعے کے حوالے سے کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں جلد حقائق سامنے آجائیں گے

واضح رہے کہ اس سے پہلے 21 اپریل کو بنوں کے علاقے جانی خیل میں 4 نوجوانوں کی لاشیں ملنے کے بعد علاقہ مکینوں نے ایک ہفتے تک لاشوں کے ہمراہ دھرنا دیا تھا، جسے حکومت کی جانب سے مطالبات کی منظوری کے بعد حتم کردیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں