وزیرستان میں فوج پر حملوں کے پیچھے کون

پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا کا علاقہ وزیرستان 11 ہزار 5 سو پچیاسی مربع کلومیٹر رقبے پر محیط ایسا علاقہ ہے جو اپنے شورش زدہ حالات کے باعث خبروں کی زینت بنتا رہتا ہے۔ افغان سرحد سے ملحقہ ضلعے میں گزشتہ 8 سے 9 ماہ میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں تیزی آئی ہے۔ جس میں کئی چھوٹے اور بڑے حملے شامل ہیں۔

حملوں سے متعلق آئی ایس پی آر اور کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے بھی مختلف بیانات او دعوے سامنے آئے ہیں، دونوں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کی خلاف بڑی کارروائی اور اس میں بھاری جانی نقصان کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

جنوبی اور خاص کر شمالی وزیرستان کے دور افتادہ علاقوں میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو رسائی حاصل نہیں، یہ ہی وجہ ہے کہ ان جھڑپوں کے بارے میں آزاد ذرائع سے تصدیق تقریباَ ناممکن ہے۔

وزیرستان میں دہشت گردی کے واقعات اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافے کو اس علاقے میں طالبان کے دوبارہ سرگرم ہونے کی وجہ بھی قرار دیا گیا ہے، جب کہ کچھ تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ضرب عضب اور دیگر آپریشنز کے دوران شمالی وزیرستان کے دورہ افتادہ علاقوں کو بغیر کلیئرنس آپریشن کے چھوڑ دیا گیا تھا، جس کے بعد زندہ بچ جانے والے دہشت گردوں نے ملک کے دیگر حصوں سے فرار ہو کر ان علاقوں کا رخ کیا۔

افغان سرحد سے جڑے یہ علاقے شروع ہی سے دہشت گردوں کے محفوظ مقامات سمجھے گئے ہیں۔ ان علاقوں میں دہشت گرد سرحد پار با آسانی جا اور آسکتے ہیں۔

 امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں تیزی کی ایک وجہ مختلف خفیہ اداروں میں ہم آہنگی نہ ہونے کا بھی نتیجہ ہے۔ سیکیورٹی فورسز اور خفیہ اداروں میں ہم آہنگی کی کمی کے باعث فورسز کے خلاف حملے بڑھے ہیں۔ تاہم سرکاری سطح پر اس رپورٹ سے متعلق کوئی ردعمل سامنے نہیں آسکا۔

ان حملوں میں اضافے کی دوسری اہم وجہ حال ہی میں کالعدم دہشت گرد تنظیموں نے دوبارہ تحریک طالبان پاکستان کیساتھ ملکر نیا اتحاد بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جس کا مقصد سیکیورٹی فورسز اور ان کے ہمدردوں کے خلاف مشترکا مسلح جنگ کرنا ہے۔ ان تنظیموں سے وابستہ جنگجو نہ صرف وزیرستان بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی پاک فوج اور ان سے کسی نہ کسی طور پر وابستہ افراد کو ٹارگٹ بنا کر قتل کر رہے ہیں۔

جیسے حال ہی میں 2 جنوری کو فتح جنگ روڈ پر دہشت گردوں نے خفیہ ادارے کے ایک اہلکار کو ٹارگٹ  کیا۔

ایک اندازے کے مطابق گزشتہ سال 2020 میں سیکیورٹی فورسز کے خلاف سب سے زیادہ حملے اکتوبر میں کیے گئے۔ جس میں فورسز کے قافلے پر حملے کے دوران کیپٹن عمر فاروق چیمہ سمیت 6 اہل کاروں نے جام شہادت نوش کیا۔

اسی ماہ میں 3 دن مسلسل نامعلوم دہشت گردوں نے حملوں میں سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جس میں 4 اہلکار شہید اور 9 زخمی ہوئے۔ ترجمان پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے ان حملوں میں اہلکاروں کی شہادت اور متعدد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں اہم جنگجو سمیت 2 دہشت گرد مارے گئے۔ ہلاک دہشت گرد جنگجو کی شناخت زر جمیل عرف ثاقب کے نام سے کی گئی۔

شمالی وزیرستان میں ہی دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز پر میر علی کے علاقے عزیز خیل میں صبح سویرے حملہ کیا، جس میں ٹوچی اسکاؤٹس کے اہل کار کو گھات لگائے دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے شہید کیا۔

گزشتہ سال ہی میر علی کے قریب دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز کے دستے پر خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق حملے میں اہلکار شہید اور 2 زخمی ہوئے۔

تحصیل اسپین وام میں بھی سرچ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان جھڑپ میں 2 سیکیورٹی اہلکار شہد، اور 3 زخمی ہوئے۔

تحصیل دتہ خیل میں بھی سیکیورٹی اہلکاروں اور دہشت گردوں کا آمنا سامنا ہوا، جہاں خفیہ اداروں کی اطلاعات پر کارروائی کی گئی۔ جھڑپ میں اہلکار شہید اور 4 جوان زخمی ہوئے۔ سیکیورٹی فورسز نے دوران 2 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔

رواں سال 18 جنوری کو ضلع جنوبی وزیرستان میں آپریشن کے دوران 2 دہشت گردوں عثمان علی اور وحید لشتئی کو ہلاک، جب کہ ایک کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔ جن کا تعلق سجنا گروپ سے تھا۔

سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر 2 خفیہ آپریشنز کیے تھے جن میں 2 دہشت گرد بھی مارے گئے تھے جبکہ ہلاک دہشت گردوں میں دیسی ساختہ بارودی سرنگیں بنانے والا ماہر بھی شامل تھا۔

وزیرستان کے امن اور استحکام کا معاملہ یہاں ہی ختم نہیں ہوتا ہے۔ عسکری حکام کی جانب سے اکثر یہ کہا گیا ہے کہ سرحد پار دہشت گردوں کی آمد اور حملوں کو روکنے کیلئے پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا کام زور و شور سے جاری ہے، جس سے حملے روکنے میں مدد ملے گی۔ عسکری حکام کے مطابق باڑ پر 80 فیصد کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ جب کہ تھنک ٹینک رپورٹ میں کیے گئے دعویٰ کی حقیقیت کیا ہے؟ اپنے ان سوالات کے جواب کی تلاش کیلئے ہم نے پاک فوج کے میجر جنرل اعجاز اعوان سے رابطہ کیا۔

میجر جنرل اعجاز اعوان

انہوں نے کہا کہ اس کی 2 وجوہات ہیں۔ ایک افغانستان کی موجودہ حکومت اور دوسرا بھارتی خفیہ ایجنسی را۔ یہ وہ دو وجوہات ہیں جو افغانستان میں امن کی پاکستانی کوششوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں اور دوسرا بلوچستان میں جو ترقیاتی کام ہو رہے ہیں اور بارڈر پر بارڑ لگائی جا رہی ہے، اس کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ باڑ کے خلاف کچھ قوتیں نظریاتی بھی ہیں، اس میں 4 طرح کے گروپ ملوث ہیں۔ ایک وہ جو ڈیورینڈ لائن کو حتمی بارڈر نہیں مانتے ہیں۔ اس میں سیاسی قوتیں بھی شامل ہیں، پھر وہ اسمگلر اور ڈرگ ڈیلرز ہیں، جنہیں آزاد بارڈر اپنی نقل و حرکت کیلئے چاہیئے ہوتے ہیں۔ اور تیسرے وہ جو را اور این ڈی ایس کا گتھ جوڑ ہیں تاکہ وہ اس راستے دہشت گردوں کو پاکستان میں داخل کرسکیں اور بلوچستان کے امن کو تباہ کر سکیں۔ پھر چوتھے وہ بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں ہیں جو بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنا چاہتی ہیں۔ ان تمام عناصر نے افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف گٹھ جوڑ کرلیا ہے۔ جو بظاہر نہیں مگر اندرونی طور پر ملے ہوئے ہیں۔ اس میں ایک حد تک امریکی ایجنیساں بھی شامل ہیں۔ ترقی کی اس راہ کو روکنے کیلئے تمام پاکستان مخالف قوتیں یکجا ہوگئی ہیں۔ تاہم آپریشن کے بعد وزیرستان اور بلوچستان کے بیشتر علاقوں کو کلیئر کرالیا گیا ہے، اب ایسا ممکن نہیں جیسے پہلے ہوتا تھا کہ کراچی لاہور سے لوگوں کو اغوا کرکے یہاں لایا جاتا تھا اور ایک لفظ علاقہ غیر کا استعمال ہوتا تھا۔ اب صورت حال یقیناً مختلف ہے، اب علاقہ غیر کوئی نہیں ہے اب سارا پاکستان ہے اور اس سے ملک دشمن قوتوں کو تکلیف ہے، جیسے پی ٹی ایم کے، نورانی صاحب کے بیٹے نے کوئٹہ جلسے میں پاکستان مخالف باتیں کیں۔ اچکزئی اپنے جلسوں میں پاکستان کے خلاف بولتے ہیں۔

ایک سوال پر کہ امریکی میڈیا میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی وجہ پاکستانی فوج اور انٹیلی جنسی ایجنیسوں میں رابطے کا فقدان ہے، جس پر انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ آپ خود بتائیں کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ خفیہ ایجینسیاں اپنے ملک کیلئے کام نہ کریں۔ ملٹری کے ادارے کس کے ہیں، ملٹری کے تو کیا وہ ان سے تعاون نہیں کرے گی؟۔ کیا ایجینسیاں آرمی چیف سے بالا تر ہو کر کام کر رہے ہیں ؟ نہیں نا ؟ تو یہ قطعاً ممکن ہی نہیں۔ یہ صرف بدگمانی پیدا کرنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔ کہیں انٹیلی جنس فیلیئر ہوسکتا ہے، جو کہ پوری دنیا میں ہوتا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ انٹیلی جنس والے ہر چلتے آدمی کو سمجھ سکیں، یا ہر درخت کے ساتھ بیٹھے ہوں اور پوری دنیا کو ہر وقت دیکھ رہے ہوں۔ وہ بھی انسان ہیں، ان سے بھی غلطیاں ہو سکتی ہیں، یہ بھی ممکن ہوتا ہے کہ وہ کہیں نہ پہنچ سکیں بروقت۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ کوئی یہ امریکا سے پوچھے کہ آپ کے پاس دنیا کی سب سے طاقت ور ایجنسی بھی تھی، آپ کے پاس سیٹلائیٹ تک پر کنٹرول تھا۔ مگر آپ کو اسامہ بن لادن کو ڈھونڈنے میں 10 سال کا طویل عرصہ کیوں لگا؟۔ ان سے کوئی یہ پوچھے کہ آپ کے ملک میں بیٹھ کے لوگوں نے تربیت کی اور 4 طیاروں کو اڑایا، 2 بلڈنگ میں مار دیا، ایک پینٹاگون سے ٹکرایا۔ ایک کو گرا دیا گیا۔ یہ کیسے ہوتا رہا۔، اس وقت ان کی انٹیلی جنسی ایجنیساں کہاں تھیں؟۔

پاکستان میں امن کی صورت حال اور حملوں میں کمی کیلئے پاک افغان سرحد پر بارڈر کس حد تک مددگار ثابت ہوگا، اس پر جنرل اعجاز اعوان کا کہنا تھا کہ یہ واقعات 90 فیصد تک قابو میں آجائیں گے۔ اور 10 فیصد چلتے ہیں گے۔ کیوں کہ جب حملہ کرنے والے آپ کے ملک میں بیٹھیں ہوں اور انہیں صرف وسائل اور ذرائع چاہیں ہوں تو کیا ہمارے معاشرے میں ہتھیاروں کی اور دھماکا خیز مواد کی کمی نہیں ہے۔ لوگ بس آلہ کار بن جاتے ہیں ایسی قوتوں کے ہاتھوں میں۔

سینیر تجزیہ کار زاہد حسین

تجریہ کاروں کے خیال میں شمالی اور جنوبی وزیرستان میں فورسز کے خلاف حملوں میں شدت کی وجہ کیا ہے ؟ اس پر سما ڈیجیٹل نے معروف سینیر تجزیہ کار زاہد حسین سے رابطہ کیا۔ ابتدائی تعارف کے بعد ہم نے زاہد حسین سے سوال کیا کہ آپ کی نظر میں ان حملوں میں شدت کی کیا وجہ ہے ؟۔۔ جس پر زاہد حسین کا کہنا تھا کہ اس میں دو سے تین عوامل ہیں جنہیں ہمیں دیکھنا ہوگا، ایک تو انخلا ایک اہم جز ہے جب آپریشن کے آغاز پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد سرحد پار چلے گئے تھے، قوی امکان ہے کہ ان کے واپس آنے اور گٹھ جوڑ سے سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری وزیرستان کی جغرافیائی حدود کو دیکھا جائے تو ماضی سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس علاقے کو مکمل کنٹرول کرکے امن لانا بہت مشکل ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پڑوسی ملک افغانستان میں جاری بدامنی کا بھی اس ملحقہ علاقے پر اثر پڑھتا ہے۔ دہشت گردوں کی کارروائیوں کے پیچھے دیگر دوسری وجوہات بھی ہوتی ہیں۔ ایک بات یہ بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ ان علاقے کا خیبر پختونخوا سے انضمام ابھی ہوا ہے، سو علاقے میں امن لانے میں بھی ابھی ٹائم لگے گا۔

جب ہم نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان پر کہ “سرحد پر باڑ لگانے کا کام 80 فیصد تک مکمل ہوگیا ہے” پر پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ 80 فیصد باڑ لگانے کے باوجود دہشت گردوں کو نہیں روکا جا سکا۔ جس پر سینیر تجزیہ کار زاہد حسین کا کہنا تھا کہ باڑ سے ایسے معاملات ختم نہیں ہوتے ہیں۔ یہ سرح ایسی قسم کی ہے کہ اس پر واقع بہت سے علاقوں کو آپ بند نہیں کرسکتے ہیں۔ دوسری بات بہت سے ایسے افراد بھی ہیں جو باڑ کی اسی جانب موجود ہیں، ٹی ٹی پی یہاں موجود ہیں، قبائل کی اپنی دشمنیاں ہیں۔ اس میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو وزیرستان کے علاقے کا خیبرپختونخوا سے الحاق پر خوش نہیں، یہ وہ ایسی چیزیں ہیں جو باڑ لگانے سے ختم نہیں ہونگی۔ اس سے ڈیل کا طریقہ مختلف ہوگا۔

بیورو چیف پشاور طارق آفاق

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ حملے دہشت گرد کرتے ہیں اور بھگتنا انہیں پڑتا ہے۔ حملوں کے بعد بعض دفعہ ایسا بھی ہوا کہ سیکیورٹی فورسز نے گھر گھر تلاشی کے دوران مقامی عام افراد کو اٹھا لیا۔ جس پر مقامی افراد نے احتجاج بھی کیا، تاہم سرکاری طور پر ان قبائل کے احتجاج کے بارے میں کوئی بیان یا ردِ عمل سامنے نہی آسکا۔ مقامی افراد فورسز کی موجودگی اور ان حملوں میں تیزی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس کیلئے ہم نے سینیر صحافی اور سماء پشاور کے بیورو چیف طارق آفاق سے ان کی رائے لی۔

جس پر طارق آفاق نے کہا کہ جب تک ہم اس فرق کو ختم نہیں کریں گے کہ کون برا ہے اور کون اچھا ہے، یہ حملے جاری رہیں گے۔ ہم ایسے بیانات تو اعلیٰ سطح پر دے دیتے ہیں کہ ملک نے کسی خوف کی پروا کیے بغیر آزادانہ فیصلہ لیا یا اہم نے اس کو ختم کردیا، یا ہم نے بلا امتیاز کارروائی ایسا ہوتا نہیں ہے۔ باڑ سے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ تو خود ان کو جواب دینا چاہیئے کہ جہاں 80 فیصد باڑ لگانے کا کام مکمل ہوگیا، وہاں یہ دراندازی کیسے ہو رہی ہے۔ اس میں ایک اہم کردار وہاں کی مقامی آبادی کا بھی ہے۔ جب کہ مقامی افراد ایسے عناصر کو پناہ دیتے رہیں گے، ان کے حوصلے بڑھائیں گے، ان کیلئے سہولت کاری کریں گے اور روابط رکھیں گے، آپ اس مسئلے پر قابو اور اس ناسور کو ختم نہیں کرسکیں گے۔

طارق آفاق کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ سب جب ہی ممکن ہوتا ہے جب اندر کا کوئی بندہ ملا ہوا ہو۔ اس سلسلے میں ضروری ہے کہ آپ مقامی افراد کا دل جیتیں۔ اور یہ جب ہی ممکن ہوگا، جب آپ ان کے بنیادی مسائل حل کریں گے، انہیں تعلیم دیں گے، صحت عامہ کے مسائل حل کریں گے۔ ان کے مسائل کو ترجیح دیں گے اور سب سے بڑا یہ کہ یہاں کی ترقی کیلئے کام کریں گے۔ یہاں سول ایڈمنسٹریشن نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ تمام اختیارات ابھی تک منقسم ہیں۔ اسکول ہیں مگر اسٹاف نہیں، اسپتال ہیں ڈاکٹرز نہیں، ٹرانسپورٹ کا کوئی نظام نہیں۔ لوگوں کو ادویات نہیں ملتیں۔

طارق آفاق نے اس بات کی جانب سے توجہ دلائی کے ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ یہاں کے مقامی افراد کو ترقیاتی پراجیکٹ اور منصوبوں میں اعتماد میں نہیں لیا گیا اور نہ انہیں شامل کیا گیا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ دہشت گرد مقامی افراد میں سے ہی کسی کا بھائی ہوگا، کسی کا چچا ہوگا، کسی کا کوئی اور رشتے دار ہوگا۔ سو یہ رشتے داری بھی دہشت گردوں کیلئے سپورٹ کا ذریعہ بن گئی ہے۔ وہ لوگ آتے ہیں ٹارگٹ کلنگ کرتے ہیں، ریمورٹ کنٹرول دھماکے کرتے ہیں اور آرام سے چلے جاتے ہیں اور ببانگ دہل اس کی ذمہ داری بھی قبول کرتے ہیں۔ یہاں کہ ابھی بھی ایسے بہت سے علاقے ہیں جہاں آپ شام کے بعد سفر نہیں کرسکتے ہیں۔ اس علاقے میں ابھی بھی لوگوں کے پاس 3 جی یا 4 جی نظر آتی ہے اور لوگ اس کو وزیرستان میں تو استعمال کرتے ہیں مگر ملک کے دیگر حصے میں نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ جو سول انتظامیہ کا کام ہے وہ سول انتظامیہ کرے اور جو فوج کا کام ہے وہ فوج کرے۔ فوج کو یہ بات سمجھ آنی چاہیئے کہ ان کا کام سرحدوں کا دفاع کرنا ہے۔ بے شک فوج سپروائز کرے مگر اصل کام سول انتظامیہ کا ہے اور فوج کا فوکس امن و امان اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی صورت حال رہے۔ دہشت گردی کے خلاف ہم یہ جنگ ہم نے 80 سے 83 فیصد جیت چکے ہیں تاہم یہ جو 15 فیصد تھی اس میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ سیکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں میں تیزی آئی ہے۔ حیقیقت پسندانہ پالیسی بھی اختیار کرنی چاہیئے اور اس کا مظاہرہ بھی ہونا چاہیئے۔

طارق آفاق کے مطابق سرحد کے اس پار این ڈی ایس بھی کام کر رہا ہے، سی آئی اے اور دیگر ممالک کی ایجنیساں بھی۔ ان سب نے پاکستان کے خلاف ایک دوسرے کیساتھ ہاتھ جوڑے ہوئے ہیں۔ جب ہم نے سوال کیا کہ جیسے پاکستان میں دشمن ملک کی ایجنسیاں کارروائیاں کر رہی ہیں تو افغانستان میں ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو کون مار رہا ہے، جیسے ہم منگل باغ کی ہلاکت کو دیکھیں، جس پر انہوں نے کہا کہ یہ ہماری اپنی کارروائیاں تھیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ پراکسی قوتوں سے یہ کام کرایا گیا۔ دراندازی دونوں جانب سے ہے تاہم پاکستان نے وہاں جا کر نہیں بلکہ وہیں کہ مقامی افراد کو ان عناصر کیخلاف استعمال کیا۔

وزیرستان سے تعلق رکھنے والی سعید علی خان اپنی تیسری نسل کے ساتھ اس علاقے میں رہتے ہیں۔ سما سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے گاؤں کے آنے والی شاہراہوں سے سیکیورٹی چیک پوسٹس بھی فوری طور پر ختم کی جائیں۔

اس حساس ترین اہم علاقے میں فورسز کی موجودگی کتنی ضروری ہے؟ اور ان حملوں میں تیزی کی اصل وجہ کیا ہے؟ علاقے کی زمینی حقیقت اصل میں ہے کیا اور مقامی صحافی ان حملوں کی کوریج کیسے کرتے ہیں؟ اس کیلئے ہم نے پشاور کے مقامی صحافی شاہد سے رابطے کیا۔

سینیر صحافی محمد شاہد، دی نیوز

شاہد کا کہنا تھا کہ وزیرستان کے حالات کے پیچھے مختلف قسم کے گروپس ملوث ہیں۔ تاہم اس علاقے میں حالیہ دنوں میں حزب الحرار اور کالعدم ٹی ٹی پی کا اثر و رسوخ بڑھا ہے۔ یہ عناصر پاک فوج کے آپریشن کے بعد بڑی تعداد میں ختم ہوگئے تھے، جو بچ گئے تھے وہ پاک افغان بارڈر کے علاقوں میں چھپ گئے تھے اور وہاں سے آکر حملے کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر بارڑ مکمل ہونے تک یہ حملے جاری رہیں گے، ایسے علاقے جہاں باڑ نہیں لگائی کا سکتی وہاں کسی ایسے نظام کے بارے میں سوچنا ہوگا جس سے دہشت گردوں کو دراندازی یا داخلے کو روکا جا سکے۔

ضلع میں حالات ساز گار اور خوشحالی ترقی کیلئے حکومت اور پاک فوج کی کوششوں سے شمالی وزیرستان میں پاک افغان تجارتی روابط بڑھانے کیلئے غلام خان بارڈر بھی کھولا گیا ہے، جو طور خم اور چمن کے بعد تیسرا بڑا کراسنگ پوائنٹ ہے۔ یہاں کی مقامی آبادی اس بات پر تو متفق ہے کہ وزیرستان میں اب پہلے جیسا خطرہ اور خوف نہیں، تاہم اب بھی بہت سے ایسی چیزیں ہیں، جو حل طلب ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے مقامی افراد کو انتظامی امور کا حصہ بنایا جائے، جو خیبر پختونخوا کے انضمام کے بعد اب تک ممکن نہیں ہوسکا ہے۔

متعلقہ خبریں