وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اور ترین گروپ ملاقات: معاملات کیسے طے پائے؟

جہانگیر ترین گروپ کے بعض ارکان نے جمعہ کو وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے ملاقات کی ہے جس میں’انھوں نے کھل کر وزیرِ اعلیٰ کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔‘ 
ایوانِ وزیر اعلیٰ کی طرف سے اس ملاقات کے بعد ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جائے اور جائز شکایات کا ازالہ کیا جائے گا‘۔ وزیر اعلیٰ آفس نے اس ملاقات کی کچھ تصاویر بھی جاری کی ہیں۔    
ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہنے والی اس ملاقات میں سعید اکبر نوانی بھی شامل تھے جن کو ترین گروپ کی طرف سے پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر نامزد کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں
اس کے علاوہ ترین گروپ کے دونوں وزرا اجمل چیمہ اور نعمان لنگڑیال، لاہور سے تحریک انصاف کے ایم پی اے نذیر چوہان اور وزیر اعظم عمران خان کے سابق معتمد خاص عون چوہدری بھی میٹنگ میں شریک تھے۔ 
ملاقات میں شریک ایک رکن اسمبلی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ وزیر اعلیٰ کو کھل کر اپنے تحفظات بتائے گئے۔ 
 ’ہم نے انہیں بتایا کہ جب سے تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی جہانگیر ترین کے حق میں کھڑے ہوئے ہیں، ان کے ساتھ مختلف رویہ رکھا جا رہا ہے۔‘
ملاقاتیوں کا سب سے بڑا مطالبہ تھا کہ بجٹ آنے والا ہے اور ’ہمارے چوبیس ارکان کو ایک دھیلا بھی ترقیاتی فنڈ اپنے علاقوں میں خرچ کرنے کے لیے جاری نہیں کیا گیا۔ جبکہ لاہور کے اور دیگر ایم پی ایز کو ایک ایک ارب روپے جاری ہوچکے ہیں۔ اسی طرح ہمارے علاقوں سے افسران کے تبادلے کیے گئے ہیں اور نئے افسران کو ہدایات کی گئی ہیں کہ ہماری بات نہ سنیں۔ وزیر اعلیٰ آفس بھی ہماری کوئی بات نہیں سنتا۔‘

وزیر اعظم کے سابق معتمد خاص عون چوہدری بھی میٹنگ میں شریک تھے۔ فوٹو سی ایم آفس
رکن اسمبلی سے پوچھا گیا کہ جب وہ تحریک انصاف کے اندر دھڑا بنا رہے تھے تو کیا ان چیزوں کے لیے تیار نہیں تھے تو ان کا کہنا تھا:  ’جب جہانگیر ترین کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تو اس وقت ہمارے چھ سے آٹھ لوگ تھے۔ جب یہ تعداد چوبیس ہو گئی تو پہلے آٹھ لوگ جو کچھ جھیل رہے تھے وہ وقت سب پہ آگیا۔ ترین صاحب کے معاملے پر انکوائری شروع ہونے کے بعد جب ہماری باری آئی تو سب نے متفقہ فیصلہ کیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہماری آواز بھی سنی جائے اور ترین صاحب نے اس کی حمایت کی۔‘
جہانگیر ترین گروپ کے رکن نے کہا کہ ’جیسے ہی ان لوگوں نے آواز اٹھائی تو اوپر سے نیچے تک سنی گئی۔ وہ وزیر اعلیٰ ہاؤس جو ہماری فون کال کا جواب نہیں دیتا تھا اب خود ملاقات کی کال وہاں سے آئی ہے۔ ہمارا پہلے بھی مقصد تحریک انصاف کو نقصان پہنچانا نہیں تھا۔ ہم پہلے ترین صاحب کے لیے لڑ رہے تھے تو اب ہم اپنے لیے کھڑے ہوئے ہیں۔‘ 
جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ اس ملاقات میں کیا ترین صاحب کے مقدمات کا ذکر ہوا؟ تو ان کا جواب نہیں میں تھا۔ 
انھوں نے کہا کہ ان کی گفتگو سننے کے بعد وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آپ اپنے مسائل لکھ کر دیں۔
’ہم اپنے مسائل تحریری طور پر ان کے حوالے کریں گے۔ اور اس کے مقابلے میں ہم نے اپنا پارلیمانی سیکرٹری بنانے کی تحریک واپس لے لی ہے اور اب ہم بجٹ کا حصہ بھی بنیں گے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس سے پہلے ہی ہمارے مسئلے حل ہوجائیں گے۔‘

ترین گروپ نے قومی اور صوبائی اسمبلی میں پارلیمانی رہنما نامزد کر دیے ہیں۔ فائل فوٹو اے ایف پی
اس ملاقات کے بعد وزیر اعلیٰ آفس نے ایک ویڈیو کلپ اور پریس ریلیز جاری کی، جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ ’انتقام کی سیاست ہمارا شیوہ نہیں۔‘
تاہم اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ یہاں کس انتقام سے متعلق بات کی گئی ہے۔ آیا ترین گروپ کے اراکین کے تحفظات پر یا کسی اور معاملے پر۔
پریس ریلیز میں مزید کہا گیا ہے کہ ’وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں سب متحد ہیں، ہماری پارٹی کا نام تحریک انصاف ہے اور ہم انصاف کی عملداری پر یقین رکھتے ہیں۔‘