وکلا کی 18 دن بعد ہائیکورٹ پر دھاوے کی مذمت

ہڑتال بھی ختم

چیمبرز گرائے جانے پر روٹھے وکلا خود ہی مان گئے اور ہائیکورٹ پر دھاوے کے اٹھارہ روز بعد پریس کانفرنس میں باضابطہ مذمت کرتے ہوئے ہڑتال بھی ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

اسلام آباد کچہری کے وکلا نے حکومت کی جانب سے غیرقانونی تعمیر کردہ چیمبرز گرانے پر ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کے چیمبر میں داخل ہوکر ہنگامہ آرائی کی تھی اور پھر خود ہی لمبی ہڑتال پر چلے گئے۔

بالاخر 18 دن بعد اسلام آباد کی تمام وکلا تنظیموں نے ناخوشگوار واقعے کی باضابطہ مذمت کیساتھ ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ بھی سنا دیا۔

وائس چیئرمین اسلام آباد بار کونسل ذوالفقار عباسی کا کہنا ہے کہ کل سے ہڑتال ختم ہو گی، وکلا عدالتوں میں پیش ہوں گے۔ چیف جسٹس کے چیمبر کا تقدس ہے۔ وکلا کو وہاں نہیں جانا تھا۔

وکلا رہنماوں کا کہنا تھا کہ آٹھ فروری کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں جو کچھ ہوا اس کا دفاع ممکن نہیں وہ کچھ نوجوان وکلا کا کیا دھرا تھا۔ چیمبرز کو بھی بغیر نوٹس گرایا نہیں جانا چاہیے تھا۔

وکلا نے ہائیکورٹ بار کے الیکشن بھی ہفتے کو ہی  کروانے کا اعلان کر دیا۔ ذوالفقار عباسی نے کہا کہ امیدوار جیل میں ہیں لیکن الیکشن وقت پر ہوں گے۔ ہم پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم جمہوریت پسند ہیں۔

ہائیکورٹ پر دھاوے کے بعد سے وکلا ہڑتال کے باعث احتساب عدالتوں میں ایک بھی کیس پر باقاعدہ سماعت نہ ہوسکی جبکہ کچہری اور ہائیکورٹ میں بھی نظام عدل معطل رہا تھا۔

متعلقہ خبریں