وہیکل رجسٹریشن کے بائیو میٹرک نظام میں خرابی یا عوام کی ہچکچاہٹ؟

 صوبہ پنجاب کی حکومت کے گاڑیوں کی رجسٹریشن کے نگران ادارے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے 11جنوری سے مینوئل طریقے سے کاروں کی رجسٹریشن اور دوسروں کے نام منتقلی کے نظام کو مکمل ختم کر دیا ہے۔ جس کے بعد اب صرف اور صرف بائیومیٹرک اور ڈیجیٹل طریقے سے ہی گاڑیاں رجسٹرڈ یا دوسروں کے نام منتقل ہو رہی ہیں لیکن اس نئے نظام کے لاگو ہونے چند ہی دنوں میں ادارے کو بڑے پیمانے پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔  
اردو نیوز کو دستیاب دستاویزات کے مطابق گذشتہ بارہ روز میں گاڑیوں کی رجسٹریشن کی تعداد میں ساٹھ فیصد کمی واقع ہوئی ہے جس سے تقریباً ایک ارب روپے کا نقصان ہوچکا ہے۔  
ڈائرکٹر ایکسائز لاہور ریجن قمر الحسن سجاد نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بائیومیٹرک نظام پر شفٹ ہونے کے بعد محکمے کو مسائل کا سامنا ہے۔
مزید پڑھیں
انہوں نے بتایا ’لیکن آپ اس کو یہ نہیں کہ سکتے کہ بائیومیٹرک سسٹم نظام میں کوئی خرابی ہے یا یہ ناکام ہو گیا ہے۔ یا آپ اس کو کوئی یہ رنگ بھی نہیں دے سکتے کہ چونکہ نظام اب شفاف ہو گیا ہے تو لوگ ڈر کے مارے رجسٹریشن نہیں کروا رہے یا ٹرانسفر کرنے سے ہچکچا رہےہ یں۔‘  
قمرالحسن نےبتایا کہ اس کی ایک وجہ تو یہ ہےکہ لوگوں کو ٹھیک طرح سے نئے نظام کی سمجھ نہیں آرہی اور دوسرا سسٹم ابھی نیا ہے تو کئی طرح کی تکنیکی خرابیوں کا بھی محکمے کو سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ نظام نافذ کرنا ہمارا خواب تھا اور بڑے ٹھیک وقت پر اس کو نافذ کیا گیا ہے۔ باقی جس ڈیٹا کا آپ ذکر کر رہے ہیں اس طرح کا تقابلی جائزہ اس لئےبھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ جب ایکسائز نے مینوئل رجسٹریشن کا نظام ختم کرنےکےلیے اکتیس دسمبر 2020 کی ڈیڈ لائن دی تو ہر شخص اس وقت میں مینوئل رجسٹریشن کروانے کےلیے  ہمارے دفتر پہنچ گیا۔ اتنا رش ہو گیا کہ ہمیں تاریخ دس جنوری 2021 تک بڑھانا پڑی۔ دس دنوں میں اٹھائیس ہزار ایسی درخواستوں پر عمل کیا گیا جن میں گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر کا کہا گیا تھا۔ اور یہ تعداد کسی بھی دئیے گئے وقت میں بہت زیادہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بائیو میٹرک نظام نافذ ہوتے ہی درخواستوں میں کمی واقع ہوئی کیونکہ لوگ پہلے ہی استفادہ لے چکےہیں۔‘  

حکام کے مطابق بائیومیٹرک نظام پر شفٹ ہونےکے بعد محکمے کو مسائل کا سامنا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
وہیکل رجسٹریشن کا نیا بائیومیٹرک سسٹم ہے کیا؟ 
پنجاب میں گاڑیوں اور موٹرسائیکلز کی رجسٹریشن کے نظام کو نادرا کے نظام سے منسلک کیا جا چکا ہے۔ اور اب کی بھی نئی گاڑی کی رجسٹریشن یا پرانی گاڑی کی ملکیت کی تبدیلی انگوٹھے کے نشان کی موقع پر تصدیق کے بغیر نہیں ہو سکے گی۔  
اس حوالے سے پنجاب بھر قائم نادرا کے 6000 ای سہولت مراکز اور ایکسائز کے 45 دفاتر میں یہ سہولت میسر ہوگی۔ ڈائریکٹر ایکسائز لاہور قمرالحسن نے اس حوالے سے بتایا کہ ’بائیو میٹرک نظام سے جعلی طورپر گاڑیوں کی رجسٹریشن نا مکمن ہو چکی ہے۔ اور اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اب یہ سارا نظام پیپرلیس ہو چکا ہےاور آپ کو ایکسائز کے دفتر آنے کی بھی ضرورت نہیں۔ آپ ’ای پے‘سے رجسٹریشن یا ٹرانسفر کی فیس جمع کروائیں اور اپنے قریبی ’ای سہولت مرکز ‘جا کر اپنی تصدیق کروائیں۔ گاڑی آپ کے نام رجسٹرڈ ہو جائے گی۔‘  
اسی طرح اگر گاڑی کسی دوسرے کےنام ٹرانسفر کروانی ہے تو دونوں اشخاص کو ایک ہی شہر یا ایک ہی جگہ آنے کی ضرورت نہیں اپنے اپنے شہروں میں دستیاب نادرا کے ای سہولت مراکز میں اپنی اپنی تصدیق کروائیں تو گاڑی گھر بیٹھے بیٹھے آپ کے نام منتقل ہو جائے گی۔  
قمر الحسن نے بتایا کہ ’اس نئے نظام میں اب اگر آپ کے گاڑی کے کاغذات گم بھی ہو گئے ہیں تو آپ کی گاڑی کی قیمت نیچے نہیں آئے گی کیونکہ اب سسٹم کے اندر ڈپلیکیٹ کاغذات کا اندراج ختم کر دیا گیا ہے۔‘