ویڈیو: برطانوی راج سے پہلے کا کراچی، مندر اور مزارات

کیا آپ کو کبھی یہ جاننے کا اشتیاق ہوا کہ انگریزوں سے بہت پہلے کراچی کیسا تھا؟، کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کراچی کی تاریخ ان کے ساتھ ہی شروع ہوئی تھی کیونکہ اس وقت کی بہت سی عمارتیں اب بھی موجود ہیں۔ لیکن حقیقت میں اس شہر میں سنانے کیلئے اور بھی بہت پرانی کہانیاں ہیں، کیونکہ اگر آپ اس کے مزاروں اور مندروں کی تاریخ پر غور کریں تو یہ آپ کو صدیوں پیچھے لے جائیں گے۔

کلفٹن کا مہادیو کا مندر

کلفٹن میں باغ ابن قاسم کے قریب جہانگیر کوٹھاری پریڈ کے نیچے غاروں میں ایک مندر ہے، جس کا نام مہادیو کا مندر ہے، جو اب بحریہ انڈر پاس میں چھپ گیا ہے۔

ہندوؤں کی روایت کے مطابق اس مندر کا ذکر مہا بھارت میں موجود ہے اور اگر واقعتاً یہ درست ہے تو اس مندر کی تاریخ 800 سال قبل مسیح کی ہے۔

اس مندر سے کئی کہاںیاں جڑی ہیں۔ ایک کہانی یہ بھی ہے کہ شیو دیوتا کے دنیا کی تخلیق کے بعد تھک کر یہاں آرام کیا تھا اور اب ہر سال (شیوراتری کے موقع پر، جب ان کی شادی دیوی پاروتی سے ہوئی تھی)، وہ سانپ کی شکل میں یہاں آکر مندر کے ارد گرد گھومتے ہیں اور چیک کرتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ زائرین کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ایک ایسا سانپ دیکھا ہے جو بہت بڑا ہے اور قربان گاہوں کے بیچ چلتا ہے۔

یہ مندر سمندر کے بالکل قریب ایک گہرے غار میں ہے اور ایک وقت ایسا تھا جب سمندری پانی اونچی لہروں کے دوران اس تک پہنچتا تھا۔ اسی طرح ایک روایت کے مطابق اس مندر اور شیو کی موجودگی کراچی شہر کو طوفانوں اور تباہی سے بچاتے ہیں۔

اس مندر میں ایک میٹھے پانی کا چشمہ بھی ہے تاہم ہم آج تک یہ پتہ نہیں کرسکے یہ کہاں سے آتا ہے اور ختم کیوں نہیں ہوتا۔

اس مندر کا قریبی تعلق جغرافیائی اور روایتی طور پر بھی عبداللہ شاہ غازی کے مزار سے ہوتا ہے، جو مندر کے غار کے قریب ایک اور پہاڑی پر واقع ہے، مندر ایک غار میں ہے جبکہ مزار پہاڑی کے اوپر ہے۔

مزار میں بھی ایک چشمہ ہے اور یہ وہی چشمہ ہے جو مہادیو مندر میں جاکر ختم ہوتا ہے۔ روایات بالکل ایک جیسی ہیں، یہاں بھی یہ خیال کیا جاتا ہے کہ عبداللہ شاہ غازی کراچی کو طوفانوں اور تباہی سے بچاتے ہیں۔

رام باغ (آرام باغ) اور مہادیو مندر

یہاں مہادیو مندر اور رام باغ (موجودہ آرام باغ) کے علاقے کے درمیان بھی ایک تعلق ہے۔

قدیم روایت کے مطابق رام باغ (موجودہ آرام باغ) وہ جگہ ہے جہاں رام اور سیتا نے ایک رات بسر کی تھی، وہ ہنگلاج جاتے ہوئے رات کو آرام کیلئے یہاں رکے۔ روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ اسی وجہ سے ہندو یاتری بلوچستان میں موجود ہنگلاج جاتے ہوئے ہندوستان کے ساحلی علاقوں دوارکا، سورت، مہاراشٹرا اور گجرات سے کشتیوں کے ذریعے کراچی کی گزری بندر پہنچتے تھے، گزری بندر سے یاتری پیدل مہادیو کے مندر اور وہاں سے رام باغ جاتے، جہاں ان میں سے کچھ رات گزارتے اور پھر وہ پیدل ہی ہنگلاج کا سفر کرتے۔ گزری بندر جو اب نہیں رہی، کارلٹن ہوٹل اور یاٹ کلب کے قریب ہوتی تھی۔

وقت گزرنے کے ساتھ رام باغ، آرام باغ بن گیا اور وہاں ایک مسجد تعمیر کردی گئی، تاہم ایک چھوٹا سا مندر آج بھی وہاں موجود ہے۔

منگھوپیر

حضرت حاجی شیخ سلطان منگھوپیر کا اصل نام کمال الدین تھا۔ وہ سندھ سے 13ویں صدی میں ہجرت کرکے ایک خوبصورت وادی جسے منگھوپیر کہا جاتا تھا میں آباد ہوگئے۔ جو کوئی بھی کراچی آتا ہے وہ گندھک کے پانی کے چشموں پر ضرور جاتا ہے، جو اپنی شفاء بخش خصوصیات کی وجہ سے افسانوی مانا جاتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق یہاں بابا فرید الدینؒ اور لعل شہباز قلندرؒ بھی آئے تھے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شہباز قلندر نے اپنی لاٹھی جب زمین پر ماری تو یہاں گندھک کے چشمے پھوٹ پڑے تھے۔ یہاں ہر سال ہزاروں عقیدت مند میلے میں شرکت اور گندھک کے چشموں میں نہانے کیلئے آتے ہیں۔

یوسف شاہ

ایک اور اہم مزار منوڑہ میں حضرت یوسف شاہ غازیؒ کا ہے، جو حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کے بھائی تھے۔ یہاں ملاحوں کی بڑی تعداد عرس کے موقع پر جمع ہوتی ہے، کیوں کہ وہ ملاحوں کے پیر سمجھے جاتے ہیں، یہاں پورے سندھ سے ملاحوں بڑی تعداد میں آتے ہیں۔ ان کا عرس ہر سال 16 سے 18 ربیع الاول کو منایا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں